مورخہ 10اپریل2016ء بروز اتوار
صوبائی حکومت کی غفلت اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے، امیر حیدر خان ہوتی
اے این پی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکی ہے، عوام دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہیں
حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ،عوام کے گرتے ہوئے مورال کی بڑی وجہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری ہے
جمشید شہید کی امن کیلئے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، قاتلوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے سوات کے علاقے منگلور میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اے این پی رہنما جمشید علی خان کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، اپنے مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ روز کا معمول بن چکی ہے لیکن صوبائی حکومت خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے اور عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ،امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبے میں سیکورٹی فورسز اور عوام کے گرتے ہوئے مورال کی بڑی وجہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے دہشت گر دوں کو اپنی مذموم کاروائیوں کیلئے کھلامیدان میسر ہے اور وہ جب بھی جہاں بھی چاہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کی خاطر اے این پی اور صوبے کے عوام نے جتنی قربانیاں دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں تاہم صوبائی حکومت کی غفلت اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے حکومت کو ٹھوس سنجیدہ اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنانا ہو گی۔صوبائی صدرنے جمشید علی کے خاندان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہید کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ امن کیلئے ان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جنہیں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ شہید جمشید پر پہلے بھی کئی بار حملے ہو چکے تھے تاہم امن کے قیام کی اپنی جدوجہد سے ذرا برابر پیچھے نہیں ہٹے اور کبھی دہشت گردوں کے آگے نہیں جھکے ، انہوں نے لواحقین کے صبر جمیل اور شہید کی بلندی درجات کیلئے بھی دعا کی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کی اس مذموم کاروائی میں ملوث عناصر کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔