Graphic1

مورخہ 9فروری 2016ء بروزمنگل

صوبائی حکومت عوامی مینڈیٹ کی توہین اور صوبے کے حقوق کی سودے بازی پر عمل پیرا ہے۔ حیدر خان ہوتی
ترقیاتی بجٹ سے 77 ارب کی کٹوتی سے جنگ زدہ صوبے کی مشکلات میں بدترین اضافہ ہو گا۔
ہم نے دہشتگردی اور سیلاب کے باوجود ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی نہیں کی۔ پشتونوں کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔
بلدیاتی اداروں ، ڈاکٹروں اور تعلیمی اداروں کو تباہ ہونے نہیں دینگے۔ مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور( پریس ریلیز) اے این پی کے صوبائی صدر اورسابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے ترقیاتی بجٹ میں7 7ارب کی کٹوتی کو صوبائی حکومت کی نااہلی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ بدترین دہشت گردی اور سیلاب جیسی آزمائشوں میں بھی ترقیاتی بجٹ پر اس قدر کٹ نہیں لگایاگیاتھا ۔مثالی بلدیاتی نظام کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ناظمین اور کونسلران کو مالی اورانتظامی اختیارات سے محروم رکھ کر عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑایا جارہاہے ۔وہ منگل کی شام کس کورونہ سعید آباد مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے جس کی صدارت ا ے این پی کس کورونہ کے صدر ظفرخان نے کی ۔اس موقع پر پی ٹی آئی کے یوتھ کونسلر محمد آیاز خان نے اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پارٹی کے صوبائی صدر نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو مبارک باددی اور انہیں ٹوپیاں پہنائیں رکن صوبائی اسمبلی احمد بہادر خان ،ڈسٹرکٹ ناظم حمایت اللہ مایار، ضلعی جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اوردیگر نے بھی اجتماع سے خطاب کیاجبکہ ڈسٹرکٹ کونسلران حاجی عطاء اللہ ،حاجی سردار لالا،نعیم انور،سہراب خان ،این وائی او کے ضلعی صدر حارث خان سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔
امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان خود تضادات کے شکارہیں مرکز میں پی آئی اے نجکاری کے خلاف ہیں جبکہ صوبے میں ہسپتالوں میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کررہے ہیں جس کے باعث غریب عوام رل رہے ہیں۔ صحت جیسے اہم شعبے کو ایڈ ہاک ازم کی بنیاد پر چلانے کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ کسی بھی قیمت پر محکمہ صحت کو نجکاری کے یکطرفہ عمل کی نذر نہیں ہونے دیا جائیگا اور اے این پی اس ایشو پر ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑی رہے گی ۔سابق وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بارترقیاتی بجٹ میں 77ارب سے زائد کٹوتی لمحہ فکریہ ہے اوریہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسوں کا نتیجہ ہے جس کامنفی اثر صوبے کی ترقی پر پڑے گا۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ ان کے دور میں بدترین دہشت گردی اور سیلاب جیسے آزمائشوں میں بھی صوبے کے ترقیاتی بجٹ پر اس قدر کٹ نہیں لگاتھا۔ ہمارے دورمیں مساجد اور مدارس ،کالجز اوریونیورسٹیاں تعمیر ہورہے تھے جبکہ موجودہ دور میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بند کئے جارہے ہیں جو پختون قوم کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل نہ کرنے پر بھی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مثالی بلدیاتی نظام کے دعویداروں نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہ کرنے میں ناکامی کے بعد ناظمین اور کونسلران کومالی اور انتظامی اختیارات سے محروم کردیا جو عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء کے انتخابات میں اے این پی کے مینڈیٹ کو چوری کیاگیالیکن اب پختون قوم بیدار ہوچکی ہے اور وہ بنی گالہ سے اختیارات واپس لے کر دم لے گی ۔انہوں نے کہاکہ پختونوں میں بیداری آچکی ہے چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک پختونوں کو سرخ جھنڈے تلے اکٹھا کرکے دم لیں گے۔ انہوں نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بروقت اور درست کیاہے اے این پی جھوٹ اور منافقت کی سیاست نہیں کرتی ہماری پانچ سالہ کارکردگی عوام کے سامنے ہے آئندہ انتخابات میں اپنی کارکردگی اور بہتر خدمت کی بنیاد پر الیکشن لڑیں گے۔ قبل ازیں اے این پی کے صوبائی صدر کا پرتباک استقبال کیاگیا اوران پر نوٹ اورپھول نچھاورکئے گئے ۔