Sangar

مورخہ : 26 فروری 2016 بروز جمعہ

صوبائی حکومت تین سالہ دور اقتدار میں ایک بھی میگا پراجیکٹ شروع نہ کر سکی۔ امیر حیدر خان ہوتی
حکمران ہمارے دور کے منصوبوں پر تختیاں لگانے میں مصروف ہیں ان کی توجہ دوسروں کی پگڑیاں اُچھالنے پر مرکوز ہیں۔
حکومت عوام کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے۔ عوام کی مینڈیٹ کی توہین کی جا رہی ہے۔ مردان میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور( پریس ریلیز )اے این پی کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاہے کہ احتساب کے نام پر دوسروں کی پھگڑیاں اچھالنے والوں کو معلوم ہوناچاہئے کہ وقت آنے پر اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے گا ۔صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے ، بھتہ خوروں کی طرف سے کھلے عام کاروباری اورصاحب ثروت لوگوں کو دھمکی آمیز فون وصول ہورہے ہیں۔تین سالہ دورمیں کوئی میگاپراجیکٹ شروع نہیں کیاگیاپختون بنی گالہ سے اختیارات واپس لاکر دم لیں گے وہ اپنے حلقہ نیابت این اے 9کے علاقہ سنگر بابا ہوتی میں94لاکھ روپے سے پایہ تکمیل سے پہنچے والا جنازگاہ اور قبرستان منصوبے کے افتتاحی تقریب اور بعدازاں کس کورونہ سعید آباد میں شمولیتی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب سے ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،ڈسٹرکٹ ممبر حاجی سردار لالا،یوسی ہوتی کے صدر اعجاز خان اورعثمان سنگر نے بھی خطاب کیا جبکہ گوہرعلی ،اسماعیل ،پرویز اورسکندرخان نے اپنے ساتھیوں سمیت مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اے این پی میں شمولیت اختیار کی امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری سے عوام عاجز آچکے ہیں تاجر اور کاروباری طبقہ صوبائی دارالحکومت سمیت کسی بھی جگہ محفوظ نہیں لوگوں کے پیچھے دھمکی آمیز فون آرہے ہیں اورصوبائی حکومت اچھی حکمرانی کی لاگ الاپ رہی ہے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ ہمارے دور حکومت میں پورے صوبے میں ترقیاتی عمل جاری تھا موجود حکومت نے اقتدار سنھالتے ہی ہمارے منصوبوں کو بند کیا اور اب ہمارے دور کے منصوبوں پر تختیاں لگائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی حکومت نہ جانے مردان کے باسیوں کو کس جرم کی سزا دے رہی ہے۔ انتخابات میں سب سے زیادہ اعتماد سیٹیں یہاں کے عوام نے پی ٹی آئی کو دلوائی ہیں لیکن یہاں کے عوام کے مینڈیٹ کا پاس نہیں رکھاجارہاہے مردان کا ڈسٹرکٹ ہسپتال ،چلڈرن ہسپتال اور باچاخان میڈیکل کالج کے تعمیراتی منصوبے جو گذشتہ سال مکمل ہونے تھے کو ادھورا رکھ کر اس کے فنڈز کو روک دیاگیااوروزیراعلیٰ نے اپنے آبائی شہر منتقل کیا۔ انہوں نے کہاکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے فیز ٹو کے لئے رقم جاری نہ کرنا تعلیم عام کرنے کی دعویدار حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہاکہ وہ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اقتدار میں آکر دوبارہ ترقیاتی عمل شروع کریں گے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے ورکروں کو ہدایت کی کہ وہ سوشل میڈیاکو مثبت مقاصد اور پارٹی کی ترویج و ترقی کے ساتھ ساتھ پختون قوم کی بیداری کے لئے استعمال کریں ۔