مورخہ : 18.2.2016 بروز جمعرات

صوبائی حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس تعلیم کش رویے پر گامزن ہے۔میاں افتخار حسین
حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے عوام مایوسی جبکہ سرکاری ملازمین بے چینی سے دوچار ہیں۔
حکومت کی نااہلی کے باعث اربوں کا بجٹ لیپس ہو رہا ہے۔ ٹیچنگ اسسٹنس کے احتجاجی کیمپس سے خطاب

پشاور (پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تعلیم کش رویے پر گامزن ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام مایوس اور سرکاری ملازمین بے چینی اور مزاحمت کی کیفیت سے دوچار ہیں۔
پشاور میں ٹیچنگ اسسٹنس کے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی تبدیلی لانے کی دعویدار صوبائی حکومت تعلیم دُشمن رویے پر گامزن ہے۔ حکومت نے جہاں ایک طرف اساتذہ اور طلباء کو سیکیورٹی کے نام پر بندوقیں تھمائی ہیں وہاں ایٹا سٹیٹ اور دیگر تقاضوں سے گزرے کوالیفائیڈ اور باصلاحیت لوگوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک عام تاثر یہ ہے کہ صوبائی حکومت کے معاملات سی ایم ہاؤس کی بجائے بنی گالہ میں کیے جا رہے ہیں ۔ دوسری طرف حکومت کی نااہلی کے باعث اربوں کا بجٹ لیپس ہو رہا ہے اور صوبے کو بدترین حالات کا سامنا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ تعلیم اور نئی نسل کو آج جن خطرات کا سامنا ہے حکمران اُس کے اسباب سے خود کو مبریٰ نہیں رکھ سکتے۔ بجائے اس کے کہ حکومت اپنے دعوؤں کے مطابق تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دیتی تلخ حقیقت یہ ہے کہ حکمران ایک منصوبے کے تحت صوبے کو مزید اندھیروں میں دھکیلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام کے علاوہ سرکاری ملازمین ، کوالیفائیڈ اُمیدوار اور دیگر شدید بے چینی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے ٹیچنگ اسسٹنس کے جائز مطالبہ پر فوری توجہ دیں اور عوام کو مزاحمت پر مجبور نہ کیا جائے۔