مورخہ 11مارچ 2016ء بروز جمعہ
صوبائی حکومت اپنے دعوؤں کے برعکس تبدیلی تو ایک طرف اپنی سمت کا تعین بھی نہ کر سکی۔ میاں افتخار حسین
تین سالہ دور اقتدار کے دوران صوبے کو اپنے حقوق کے حوالے سے بیڈ گورننس کا سامنا رہا۔
جنگ زدہ صوبے کے حالات بد تر ہو گئے ہیں اور صوبے کے اجتماعی مفادات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
عوام جان چکے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر دوسری کوئی قوت نہیں کر سکتی۔
باچا خان مرکز میں نئے شامل ہونیوالوں سے بات چیت

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے وعدوں کے برعکس صوبے کے عوام کی توقعات پر پورا اُترنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام اے این پی کی طرف بڑی تعداد میں پھر سے مائل ہو رہے ہیں اور ان کو احساس ہو چلا ہے کہ صوبے اور عوام کا تحفظ اے این پی کے بغیر دوسری کوئی قوت نہیں کر سکتی۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق اُنہوں نے ان خیالات کا اظہار باچا خان مرکز پشاور میں پی ٹی آئی ڈاگ اسماعیل خیل کے رہنما صدیق خٹک اور جماعت اسلامی کے رہنما ضیاء الزمان کی ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کے اعلان کے دوران کیا۔ اس موقع پر اے این پی کے مقامی رہنما میاں تمیز الدین خٹک ، حامد سعید اور سلیم خان بھی موجود تھے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ 2013 کے الیکشن میں اے این پی کے خلاف ایک منظم منصوبہ بندی کی گئی تاکہ پارٹی کو بوجوہ موثر پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا جائے اور مینڈیٹ کو تبدیلی کے نام پر نعرہ لگانے والوں کی جھولی میں ڈال دیا گیا ۔ تاہم صوبائی حکومت تین سال کے طویل عرصے کے دوران اپنی سمت کا تعین بھی نہ کر سکی اور اس تمام مدت کے دوران صوبے کو بیڈ گورننس کا سامنا رہا جس کے باعث عوام کی مایوسی میں اضافہ ہوا اور ان پر یہ بات واضح ہو گئی کہ تبدیلی کے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ جنگ زدہ صوبے کے حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور صوبے کے مفادات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام جان چکے ہیں کہ صوبے ، عوام اور خطے کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کسی بھی دوسری قوت کے بس کی بات نہیں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پارٹی بعض رکاوٹوں کے باوجود نہ صرف بہت متحرک ہے بلکہ لوگ بھی اس میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔
اُنہوں نے پارٹی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ حالات کا ادراک کرتے ہوئے اپنی تنظیمی سرگرمیوں میں اضافہ کریں تاکہ عوام کے ساتھ مل کر مستقبل کے چیلینجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اُنہوں نے اس موقع پر نئے شامل ہونے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اور ان کی شمولیت کا خیر مقدم کیا۔