مورخہ4.1.2016 بروز پیر
صوبائی حکمرانوں کو صوبے کی مشکلات ، ترجیحات اور چیلینجز کا ادراک نہیں ہے ’ میاں افتخار حسین‘
اے این پی نے پیچیدہ حالات کے باوجود صوبے کی ترقی اور خدمت کو سرفہرست رکھا۔
کاریڈور کے ایشو پر اگر ابتداء میں ہمارے مؤقف کی تائید کی جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اگر دیگر سیاسی قوتیں اب بھی کاریڈور پر بیک آواز ہو کر آگے بڑھتی ہیں تو یہ ایک بہتر راستہ ہے۔
پبی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب
پشاور (پریس ریلیز) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت عوام اور ووٹروں کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ مایوس عوام بڑی تعداد میں اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے اور خطے کے لوگ اے این پی ہی کو اپنے حقوق اور مفادات کا نگہبان سمجھتے ہیں۔
پبی کے علاقے چاند بی بی میں ایک شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکمرانوں کو صوبے کے حالات ، مشکلات اور چیلینجز کا ادراک نہیں ہے اور ان کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ مخالفین کو کیسے ہراساں کیا جائے اور اپنوں کو کس طریقے سے نوازا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران صوبے میں تبدیلی تو دور کی بات معمول کے معاملات بھی درست انداز میں آگے نہ بڑھ سکے اور عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پشیمان ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے انتہائی پیچیدہ حالات اور چیلینجز کے باوجود صوبے کی ترقی کو سر فہرست رکھا اور عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اپنوں کے علاوہ دوسرے بھی ہمارے دور کو بہتر قرار دے رہے ہیں اور اے این پی میں لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہو رہی ہے۔
کاریڈور کے ایشو پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ جو بھی صوبے اور خطے کے حقوق کی آواز اُٹھائے گا ہم اس کا خیر مقدم کریں گے کیونکہ صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنا سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ابتداء میں کاریڈور پر اے این پی کا جو واضح مؤقف سامنے آیا تھا اگر اس مرحلے کے دوران دوسری سیاسی قوتیں ہماری ہم آواز بن جاتیں تو آج صورتحال کافی مختلف ہوتی۔ اس کے باوجود اگر تمام قوتیں اب بھی اس معاملے پر بیک آواز ہو کر آگے بڑھتی ہیں تو یہ ایک بہترین راستہ اور طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ بعض دیگر اہم معاملات کی طرح کاریڈور پر بھی اے این پی کا مؤقف صوبے اور خطے کی ترجمانی کا مظہر ہے کیونکہ اس منصوبے کو اس کی روح اور ضرریات کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ پرانے نقشوں اور ڈیزائننگ کے مطابق مغربی روٹ کی تکمیل پر فوکس کیا جائے اور ان خدشات کا ازالہ کیا جائے جن کا اے این پی ابتداء ہی سے اظہار کرتی آرہی ہے۔
شمولیتی اجتماع سے ان کے علاوہ اے این پی کے ضلعی صدر ملک جمعہ خان ، جنرل سیکرٹری خوشحال خان اور یونین کونسل چوکی ممریز کے صدر ارشاد خان نے بھی خطاب کیا۔