2016 صحت کی نا قص پالیسیوں کے باعث ہزا روں افراد مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں، شازیہ اورنگزیب

صحت کی نا قص پالیسیوں کے باعث ہزا روں افراد مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں، شازیہ اورنگزیب

صحت کی نا قص پالیسیوں کے باعث ہزا روں افراد مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں، شازیہ اورنگزیب

مورخہ 27جنوری 2016ء بروز بدھ

صحت کی نا قص پالیسیوں کے باعث ہزا روں افراد مختلف امراض کا شکار ہو رہے ہیں، شازیہ اورنگزیب
نمونیا سے مزید تین بچوں کی ہلاکت افسوسناک ہے ، صوبے کو کئی موذی امراض نے گھیر رکھا ہے
بروقت طبی سہولیات کی عدم دستیابی شرح اموات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے ، حکومت توجہ دے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی رہنمااور سابق ایم پی اے شازیہ اورنگزیب نے جمرود میں شدید سردی اور نمو نیا سے تین بچوں کی ہلاکت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے ٹھوس اور مناسب اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ شدید سردی کی لہر کے باعث مختلف بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں تاہم بچوں کو بروقت طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ سکول جانے والے بچے موسم کی شدت کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں لہٰذا خیبر پختونخوا کے سکولوں میں چھٹیوں کا اعلان کیا جائے تا کہ بچوں کو مزید امراض میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی نسبت پنجاب میں سردی کی شدت کم ہے تاہم وہاں بھی ان دنوں سکولوں میں چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا لیکن یہاں اس سلسلے میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے،شازیہ اورنگزیب نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتالوں میں امراض سے بچاؤ کیلئے ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تا کہ معصوم قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ صو با ئی حکومت کی نا قص صحت پالیسی کے باعث ہزا روں افراد مختلف موذی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور حکومت نے صوبے کے غریب عوام کو وبائی امراض کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے، اُنہوں نے مزیدکہاکہ صوبے کے بہت سے اضلاع میں میں ہزاروں لوگ نمونیہ کے باعث شدید متاثر ہوئے، مریضوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے تاہم حکومت اس کے تدراک میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ڈینگی ، پولیو اور دیگر خطر ناک امراض نے صوبے اور فاٹا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جبکہ عمران خان خود اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ ہسپتالوں اور علاج معالجے کی سہولیات اور اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طورپر اقدمات نہیں کیے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے اور حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔

شیئر کریں