مورخہ : 23.4.2016 بروز ہفتہ

شہدائے قصہ خوانی کی یاد میں منعقدہ اجتماع میں اے این پی کے قائدین کا انتہا پسندی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کا مطالبہ
بعض بیرونی اور داخلی قوتوں نے کئی دہائیوں سے پشتون سرزمین کو میدان جنگ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
پنجاب میں موثر کارروائیوں کے بغیر پاکستان میں امن کا قیام ناممکن ہے۔ میاں افتخار حسین
ہمارے اکابرین کی بات ماننے کی بجائے ان پر غداری کے الزامات لگائے گئے۔ حاجی غلام احمد بلور

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین نے شہدائے قصہ خوانی سمیت وطن کی آزادی ، عوام کے حقوق اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جانوں کا نذرانہ دینے والے لاتعداد شہیدوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے اور ملک کو درپیش سنگین خطرات کا ادراک کرتے ہوئے انتہا پسندی کے خاتمے کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں گڈ اور بیڈ کا امتیاز کیے بغیر پنجاب سمیت پورے ملک میں کارروائیاں کریں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق باچا خان مرکز میں شہدائے قصہ خوانی کی 86 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمارے اکابرین ، خدائی خدمتگاروں اور اے این پی کے کارکنوں نے جنگ آزادی سے لیکر اب تک کے تمام ادوار کے دوران جان و مال کی مثالی قربانیاں دیں اور اسی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمارے کارکن اب بھی امن دُشمن قوتوں کے نشانے پر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ادوار اور حکومتیں بدلتی رہیں مگر ہماری مشکلات اور آزمائشیں کم نہیں ہوئیں پشتون چار دہائیوں سے پراکسی وارز اور جہاد کے نام پر لڑی جانے والی جنگوں کے سنگین نتائج بھگتتے آ رہے ہیں اور بعض قوتوں نے اپنے مفادات کیلئے ہماری سرزمین کو میدان جنگ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد توقع پیدا ہو گئی تھی گڈ اور بیڈ کے امتیاز کے بغیر پاکستان اور افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی مگر ایسا نہیں ہوا اور دہشتگردی اب بھی جاری ہے۔ سابق صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پنجاب کی 70 سے زائد کالعدم تنظیموں کے خلاف حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان عدم اعتماد کے باعث عملاً اس سطح کی کارروائی نہیں کی جا رہی جس کی ضرورت ہے اور حکومت ایک فیصلہ کن آپریشن سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جب تک پنجاب سے ان قوتوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا پاکستان اور خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ دہشتگردی اب بھی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم ہمارے حکمران اور سیاستدان پانامہ لیکس اور بعض دیگر ایشوز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حا لانکہ اس ایشو پر اے این پی کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ اپوزیشن کی اہم پارٹیوں کے علاوہ اب وزیر اعظم بھی مان چکے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے پر فوکس کیا جائے اور قومیتوں ، صوبوں کے مفادات کے تحفظ کو بھی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے سینئر نائب صدر اور رکن قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ آج اسلام آباد اور جہاد کے نام پر ایک کلمہ گو دوسرے کلمہ گو کو مارنے پر تلا ہوا ہے ۔ تاہم بدقسمتی یہ ہے کہ اس تمام جنگ میں پشتون ہی مر رہے ہیں اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں سے کسی وقفے کے بغیر جاری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہمارے اکابرین کے اُصولی موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر غداری کے الزامات لگانے سے گریز کیا جاتا اور دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنائی جاتی تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا اور آج ہمیں بد ترین اندرونی خطرات اور انتہا پسندی کا سامنا بھی نہ ہوتا ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ پشتونوں کو جنگوں کا ایندھن بنانے کا عالمی اور علاقائی ایجنڈہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور ہم شہداء کی جانوں کا نذرانہ دے کر تھک چکے ہیں۔ اس لیے ریاستی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے۔ قبل ازیں سیمینار کے دوران میاں افتخار حسین ، حاجی غلام احمد بلور ، بشریٰ گوہر ، بشیر خان مٹہ ، ملک غلام مصطفیٰ ، بشیر پختونیار ، حاجی ہدایت اللہ خان ، سرتاج خان اور پرویز خان نے شہدائے قصہ خوانی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جبکہ پارٹی لیڈروں نے قصہ خوانی میں یاد گار شہداء پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی ۔ سیمینار میں اے این پی ، این وائی اور پختون ایس ایف کے کارکنوں کے علاوہ پارٹی کے قائدین ، ارباب محمد طاہر ، ایوب خان اشاڑے ، نواب یوسفزئے ، سنگین خان ایڈوکیٹ ، محسن داوڑ اور پلوشہ عباس بھی شریک ہوئے۔