مورخہ : 28.4.2016 بروز جمعرات

سی پیک ، بنک آف خیبر اور صوبے کے اجتماعی حقوق پر صوبائی حکومت ، مصلحت اور دوغلے پن کا شکار ہے۔ میاں افتخار حسین
وزیر اعلیٰ کا مسلسل یو ٹرن اور نت نئے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ سی پیک پر حکومت اور پی ٹی آئی کی سرے سے کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔
نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں عمل نہیں ہو رہا۔ بلاامتیاز کارروائیوں کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
پانامہ سکینڈل اور سی پیک پر اے این پی کا موقف بالکل واضح ہے ۔ خیبر لیکس کی تحقیقات ناگزیر ہیں۔ این وائی او کے کنونشن سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے معاملے پر تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے مؤقف اور پالیسی کو مبہم اور دوغلا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے یوٹرن لینے اور آئے روز نت نئے بیانات سے ثابت ہوا ہے کہ کاریڈور جیسے اہم ایشو پر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی سرے سے کوئی پالیسی ہے ہی نہیں اور نہ ہی صوبائی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس ہے۔
خوش مقام نوشہرہ میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ کاریڈور پر اے این پی کا مؤقف نہ صرف یہ کہ بالکل واضح ہے بلکہ اس کے بارے میں سیاسی سطح پر سب سے پہلے اے این پی نے سیمینارز کا انعقاد کر کے آواز اُٹھائی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ جنگ زدہ صوبے اور فاٹا کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے اور جو بھی قوت اس پر خاموشی اختیار کرے گی یا مصلحت کا شکار ہو گی اس کا عوامی اور سیاسی سطح پر محاسبہ کیا جائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ سی پیک معاشی انقلاب کا ایک بڑا ذریعہ ہے تاہم حکمران طبقے کا مؤقف مصلحت گوشی ، غفلت اور لاپرواہی پر مبنی ہے اور وزیر اعلیٰ کے نت نئے بیانات اس جانب اشارہ ہے کہ ان کے پاس سرے سے کوئی واضح پالیسی ہے ہی نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کو دیوالیہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ تین بجت لیپس ہوئے اب کہا جا رہا ہے کہ صوبے کو بجٹ کے بحران کا سامنا ہے۔ دوسری طرف کاریڈور کے بنیادی ایشو پر بھی مسلسل مصلحت اور غلط بیانی سے کام لیا جارہا ہے۔
اُنہوں نے دہشتگردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں یہ نکتہ شامل تھا کہ جب اور جہاں بھی دہشتگردہوں گے اُن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائیگی۔ تاہم حکومت پنجاب میں آپریشن سے گریز کرتی رہی اور اب بھی صورتحال یہ ہے کہ عسکری قیادت اور پنجاب حکومت اس معاملے پر ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے قبل جب سانحہ پشاور کے بعد آپریشن ضرب عضب کا فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا میں آغاز کیا گیا تو صوبائی حکومت اس سے عملاً لاتعلق رہی اور دونوں حکومتوں نے آئی ڈی پیز کی بحالی ، امداد اور واپسی سے بھی لاتعلقی اختیار کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پنجاب سمیت پورے ملک میں گڈ اور بیڈ کی تفریق کے بغیر بلا امتیاز کارروائیاں نہیں کی جاتیں اور افغانستان کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے مشترکہ حکمت عملی کا راستہ ہموار نہیں کیا جاتا۔
اُنہوں نے پانامہ لیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کا موقف بہت واضح ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں قابل قبول تحقیقاتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے اور اے این پی اپنا یہ مؤقف 2 مئی کی اے پی سی میں بھی دُہرائے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی اب تک کی فہرست سے وزیر اعظم کا نام نکلنے یا نکالنے کے معاملے نے مزید سوالات کو جنم دے رکھا ہے جبکہ یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ سینکڑوں مزید افراد کے نام سامنے آنے والے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی طرح خیبر لیکس کی فوری اور جامع تحقیقات بھی ازحد ضروری ہیں کیونکہ اس معاملے کے ساتھ صوبے کا مفاد وابستہ ہے اور یہ صوبے کے حقوق اور مفادات پر ڈاکہ ڈالنے والی بات ہے۔
اُنہوں نے این وائی او کے عہدیداران اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ نادار اور تعلیم سے محروم طلباء کو علم کی روشنی سے آراستہ کرنے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے تاکہ معاشرے میں سیاسی شعور کے علاوہ تعلیم کے فروغ کا راستہ بھی ہموار کیا جا سکے۔ کنونشن سے این وائی او کے رہنماؤں سنگین خان ایڈوکیٹ ، محسن داوڑ اور بعض دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔