مورخہ 25مئی2016ء بروز بدھ

سیکورٹی کی موجودہ صورتحال پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی تشویشناک ہے، امیر حیدر خان ہوتی
حکمران اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں، صوبے میں ٹارگٹ کلرز کی حکومت ہے
ٹارگٹ کلرز شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن حکومت کہیں بھی نظر نہیں آ رہی،تمام حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے
پتنگ چوک میں ایف سی اہلکاروں کا قتل افسوسناک ہے،صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے پتنگ چوک پشاور میں ایف سی اہلکاروں پر فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں تین اہلکاروں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں امیر حیدر خان ہوتی نے پشاور سمیت صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ٹارگٹ کلرز کی حکومت ہے اور حکومتی نمائندے کہیں نظر نہیں آرہے، انہوں نے کہا کہ بدامنی نے صوبے کے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے جبکہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات سے معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کاروباری اور تجارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر جاری ہے اور کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی اور غفلت نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور حکمران اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ ایک طرف بدامنی ،خوف، وحشت اور دہشت کے ماحول نے لوگوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف حکومت کا غیر ذمہ دارانہ اور غافلانہ رویہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ٹارگٹ کلرز شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن حکومت کہیں بھی نظر نہیں آ رہی جبکہ سیکورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی جان و مال داؤ پر لگے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکورٹی کی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور عوام کو بیروزگاری اور دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ صوبے بالخصوص پشاور میں ٹارگٹ کلرز کا راج ہے اورحکومت نام کی کوئی چیز نہیں شہریوں کو قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بم حملے ، اغواء برائے تاوان ، رہزنی ، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔صوبائی صدر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ صوبے میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کے شکار ہیں۔صوبائی صدر نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے کیونکہ بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پرصوبائی حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کی معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو بدامنی پرکنٹرول کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اور پالیسی اپنا نا ہو گی۔