مورخہ 31مئی2016ء بروز منگل

سیکورٹی اہلکار دہشت گردوں کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہیں ، امیر حیدر خان ہوتی
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا
نہتے اور معصوم انسانوں کی جانیں لینے والے دہشتگرد کسی طور انسان کہلانے کے لائق نہیں،
حکومت دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرے،

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے مہمند ایجنسی میں بم دھماکے میں ایف سی اہلکار کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئے روز سیکورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کے باعث ان اہلکاروں کا مورال گر رہا ہے اور عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے کیونکہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اگر ان کی حفاظت پر ما مور سیکورٹی اہلکار خود محفوط نہیں تو پھر ان کی حفاظت کون کرے گا، تاہم اگر حکومت وقت ان کے ہاتھ مضبوط کرے اور ان کی حفاطت کیلئے مناسب اقدامات کرے تو وہ پہلے سے زیادہ مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث ہونے والے بھاری جانی نقصانات کے باوجود ان واقعات پر حکومت کی عدم توجہی معنی خیز ہے ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے مستقبل میں بڑی تباہی کے امکانات نظر آ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں کو صرف اس لئے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہیں۔
صوبائی صدر نے مردان میں ہونے والے خودکش دھماکے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ نہتے اور معصوم انسانوں کی جانیں والے دہشتگرد کسی طور انسان کہلانے کے لائق نہیں اور ان کے مکروہ چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کے عالم میں ایسی مذموم کاروائیاں کر رہے ہیں تاہم حکومت کو چاہئے کہ انسانیت سوز کاروائیوں میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے ، انہوں نے غمزدہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی ۔