مورخہ 2 مئی2016ء بروز پیر
سیاست میں وفاداریاں تبدیل کرنا بڑی کرپشن ہے اور وزیر اعلیٰ اس کا ریکارڈ توڑ چکے ہیں، میاں افتخار حسین
موصوف ماضی میں حملہ آوروں کے حامی رہے ہیں ، پتہ نہیں وہ کس بنیاد پر امن کے قیام کا کریڈٹ لے رہے ہیں
کرپشن اور پانامہ لیکس پر آسمان سر پر اٹھانے والے خیبر لیکس کی تحقیقات سے گریزاں کیوں ہیں
ہم نے امن کے قیام اور اٹھارویں ترمیم ، صوبے کی شناخت اور صوبے کے اجتماعی حقوق کو لاتعداد جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یقینی بنایا
الزامات لگانے اور خواب دیکھنے کی بجائے وزیر اعلیٰ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں ، گل بیلہ پی کے8میں انتخابی جلسہ سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے کرپشن کے خاتمے اور پانامہ لیکس کی آڑ میں آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ان کو چاہئے کہ وہ خیبر لیکس کی فوری تحقیقات کریں اور اس کے ساتھ صوبے میں دیگر بد عنوانیوں اور نا اہلی پر مبنی پالیسیوں کی بھی چھان بین کی جائے کیونکہ صوبے کو عملاً بد ترین بد انتظامی، اقربا پروری اور ادارہ جاتی نا اہلی کا سامنا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی بجائے یہ انتقام اور الزام تراشی کی سیاست سے فرصت نہیں،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان کے مطابق پی کے 8گل بیلہ میں ارباب نذیر کے حجرے میں ایک بڑے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے جانوں کی قربانیاں دے کر نہ صرف یہ کہ صوبے میں امن کو یقینی بنایا بلکہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری ، صوبے کی شناخت کے حصول اور ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے صوبے کا نقشہ بدل دیا تاہم تبدیلی کے نام پر بر سر اقتدار آنے والی پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے صوبے کے مفادات اور حقوق کو داؤ پر لگا دیا ہے ان کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ ان کے پاس چوہے مار مہم کیلئے بجٹ بھی نہیں ہے۔انہوں نے پانامہ لیکس کی طرح خیبر لیکس کو بھی بڑا سکینڈل قرار دیتے ہوئے عمران خان اور سراج الحق سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبے کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی اس سازش کو بے نقاب کر کے اس کی تحقیقات کریں ، انہوں نے کہا کہ دونوں لیڈروں کو دوسروں سے استعفے طلب کرتے وقت اپنی حکومت اور وزیروں کی کرپشن اور نا اہلی کا بھی نوٹس لینا چاہئے،وزیر اعلیٰ کے حالیہ اے این پی مخالف بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں ، کارکنوں اور لیڈروں کی لاتعداد جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جبکہ موصوف حملہ آوروں کے حامی اور وکیل رہے ہیں ، جس امن کی وہ بات کر رہے ہیں وہ بعض دیگر ریاستی اقدامات کے علاوہ وزیرستان آپریشن کا نتیجہ ہے اور فاٹا صوبے کا حصہ نہیں ہے ، پتہ نہیں موصوف کس بنیاد پر اس کا کریڈٹ لے رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاست میں سب سے بڑی کرپشن وفاداری تبدیل کرنا ہوتا ہے اور یہ ریکارڈ موصوف توڑ چکے ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ اے این پی کے خاتمے کا خواب چھوڑ کر حقائق کا سامنا کریں اور عوام کو جواب دیں کہ صوبے کی سیاست میں ان کا کردار کیا رہا ہے اور بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے صوبے کے حقوق کیلئے کیا کیا ہے، انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کو وقت کی بڑی طاقتیں ختم اور کمزور نہ کر سکیں ان کے سامنے موصوف اور ان کی پارٹی کی سرے سے کوئی اوقات ہی نہیں ہے ، ہم 2018میں نہ صرف یہ کہ ان کا سیاسی محاسبہ کریں گے بلکہ ان کو اپنی اوقات ، اہمیت اور مقبولیت کا آئینہ بھی دکھا دیں گے ، یوم مئی کی مناسبت سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے صوبے کے مزدوروں ملازمین اور عوام کو تین سال میں کیا دیا ہے ، حالت تو یہ ہے کہ صوبے کو بدترین بد انتظامی کے علاوہ بے روزگاری مہنگائی بد امنی اور کرپشن کا سامنا ہے۔قبل ازیں انتخابی جلسہ سے اے این پی کے قائدین خوشدل خان ایڈوکیٹ ، ارباب نذیر خان اور پی کے 8کے امیدوار اعجاز احمد سیماب نے بھی خطاب کیا جبکہ پارٹی کے ان رہنماؤں کے علاوہ ارباب ظاہر خان ، ہارون بشیر بلور، ملک نسیم خان ، ارباب انعام اور دیگر بھی جلسے میں شریک ہوئے ۔