مورخہ : 23.4.2016 بروز ہفتہ

سنہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو اپنی نام نہاد مقبولیت کا پتہ چل جائیگا۔ امیر حیدر خان ہوتی
* صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی صوبے کے عوام سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں۔معاملات بنی گالہ سے چلائے جا رہے ہیں۔
* وزیر اعظم پانامہ لیکس پر سیاسی قائدین کی مشاورت سے آگے چلیں تو مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
* صوبے میں ترقی کا پہیہ حکمرانوں کی نااہلی کے باعث رک گیا ہے۔ پار ہوتی مردان میں شمالیتی اجتماع سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز ) سابق وزیراعلیٰ اور اے این پی کے صوبائی صدر امیرحیدرخان ہوتی ایم این اے نے کہاہے کہ پانامالیکس کی تحقیقات سے قبل وزیراعظم میاں نواشریف سے استعفیٰ کے مطالبات مناسب نہیں ، وزیراعظم کو ٹرم آف بزنس(ٹی او آرز ) پر سیاسی قیادت کو اعتمادمیں لینا چاہئے پختونوں کا مینڈیٹ چرانے والے سن لیں ،نام نہاد تبدیلی کے جھوٹے دعوؤں سے عوام بے زارہوچکے ہیں اوران کی نظریں اے این پر لگی ہوئی ہیں 2018کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو اپنی مقبولیت کا پتہ چل جائے گا ،نوجوان ہمارے ساتھ ہیں صوبائی حکومت کے پاس کوئی اختیا رنہیں ،خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارہوتی مردان میں سابق بلدیاتی امیدوار یارمحمد خان اوران کے سینکڑوں ساتھیوں کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے پارٹی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار، ضلعی جنرل سیکرٹری لطیف الرحمان ،جاوید یوسفزئی ، کونسلر ہمایون خان اورپارہوتی کے صدر اشفاق خان نے بھی خطاب کیا۔امیرحیدرخان ہوتی نے شمولیت اختیار کرنے والوں کو سرخ ٹوپیاں پہنائیں اورانہیں مبارک باددی کارکنوں نے اپنے لیڈر کی جلسہ گاہ پہنچنے پر ڈھول کی تاپ پر استقبال کیا اورپختون ایس ایف اور این وائی او کے جوانوں نے بھنگڑے ڈالے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے آیاتھا وزیراعظم نے ان کو قبول کرکے اچھی روایت قائم کی تاہم اگر وزیراعظم خطاب سے قبل سیاسی قیادت سے مشاورت کی جاتی تو ٹرم آف ریفرنس (ٹی او آرز ) پر اختلافات نہ ہوتے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اب بھی سیاسی جماعتوں کے خدشات دور کرنے کیلئے مشاورت کریں تو اچھے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے پی پی اور پی ٹی آئی کی طرف وزیراعظم سے استعفیٰ کے مطالبات کو قبل از وقت قراردیا اورکہاکہ اس وقت وزیراعظم پر صرف الزامات ہیں اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو استعفیٰ کا مطالبہ کیاجاسکتاہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ پختون حکمرانوں کے کرتوں کو جان چکے ہیں اوراب وہ ان کے مزید وعوؤں میں آنے والے نہیں ان کاکہناتھاکہ 2018میں ووٹ کے ذریعے اپنے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں کا بدلہ چکادیں گے۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ عمران خان اورمیاں نوازشریف کا پختون قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں دونوں پنجاب کی سیاست کررہے ہیں ایک پہلی بار اوردوسراچوتھی بار وزیراعظم بننے کے چکرمیں ہیں ان کاکہناتھاکہ ہم نے حکمرانوں کو بھرا خزانہ چھوڑ دیاتھا آج حکومت کے پاس تنخواہوں کے پیسے نہیں۔ امیرحیدرخان ہوتی نے کہاکہ اے این پی کے دور حکومت میں ہرطرف ترقی کا دوردورہ تھا تبدیلی والوں کے دور میں ترقی کا پہیہ رک گیاہے ان کے پاس کسی مرض کا علاج نہیں خزانے کی چابیاں بنی گالہ میں پڑی ہیں۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے کہاکہ صوبائی حکومت عوام کے جان ومال کے تحفط میں ناکام ہے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے اساتذہ اورطلباء سے کہاجارہے کہ وہ دہشت گردوں کو خود مقابلہ کریں پختونوں کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے بندوق دینے کی سازش ہورہی ہے اوراس کے خلاف اے این پی ڈٹ کر میدان میں کھڑی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت پختونوں کو نہ جانے کس جرم کی سزا دے رہی ہے ہمارے دور کے ترقیاتی منصوبوں کو جان بوجھ کر بند کردیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ مردان کا ڈسٹرکٹ ہسپتال ،چلڈرن ہسپتال اور باچاخان میڈیکل کالج کے تعمیراتی منصوبے جو گذشتہ سال مکمل ہونے تھے کو ادھورا رکھ اس کے فنڈز کو روک دیاگیا انہوں نے کہاکہ وہ انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکتھے اقتدار میں آکر دوبارہ ترقیاتی عمل شروع کریں گے۔