مورخہ : یکم مارچ 2016 بروز منگل

اپنے قائدین کے دیکھے ہوئے خواب سچ ثابت کردکھائیں گے
سات مارچ کو ارباب سکندرخان خلیل کی 34ویں برسی کے موقع پر عظیم الشان جلسۂ ہوگا،ارباب محمد طاہر،خوشدل خان ایڈووکیٹ

پشاور(پ،ر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری ارباب محمد طاہر،صوبائی فنانس سیکرٹری اور سابق صوبائی ڈپٹی سپیکر خوشدل خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پختون دھرتی اور پختونوں کے حقوق کے لیے ارباب سکندرخان خلیل کی سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، ان کی زندگی اور جدوجہدہمارے لیے مشعل راہ ہے ،اور جب تک ہم اپنے قائدین کے مشن کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچائیں گے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اچر کلے میں ضلعی نائب مورخہ : یکم مارچ 2016 بروز منگل

* ایک منصوبے کے تحت نئی مردم شماری کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ امیر حیدر خان ہوتی
* مردم شماری میں اٹھارہ برس کی تاخیر یا تعطل سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس سے صوبوں کو اختیارات اور وسائل پر فرق پڑتا ہے۔
* یہ امر تشویش ناک ہے کہ حکومت اب بھی حیلے بہانوں کے ذریعے اس ذمہ داری سے جان چھڑانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
* بروقت مردم شماری ریاست کی ذمہ داری ہے ورنہ دوسری صورت میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تلخی بڑھے گی۔

پشاور(پ،ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے مردم شماری موخر کرنے کے حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پر پیرا ہے اور ایک منصوبے کے تحت چھوٹے صوبوں کے اختیارات اور وسائل میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے اقتصادی اختیارات میں درکار اضافے کیلئے مردم شماری لازمی ہے تاکہ آبادی کی بنیاد پر وسائل کا تعین کیا جا سکے تاہم بعض حلقے اس خدشے کے باعث مردم شماری کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں کہ اس کے نتیجے میں چھوٹے صوبوں کے اقتصادی وسائل میں اضافہ ہو گا اور کسی ایک صوبے کی بالا دستی متاثر ہو گی۔
اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری میں سترہ اٹھارہ سال کا تعطل یا تاخیر سمجھ سے بالا تر ہے اور یہ بات بھی قابل حیرت ہے کہ اب بھی مختلف بہانوں کی آڑ میں حکومت مردم شماری سے جان چھڑانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اور مشترکہ مفادات کونسل جیسے بنیادی پلیٹ فارمز کی فعالیت اور ان سے متعلق فیصلوں کا انحصار بھی بنیادی طور پر مردم شماری پر ہے اور یہ آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ آئین کے مطابق بروقت مردم شماری کرائی جائے تاہم یہ بات افسوسناک ہے کہ سال 1998 کے بعد اس جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جو کہ چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مردم شماری کیلئے انتظامات کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اس بات کو یقینی بنانا فیڈریشن کیلئے لازمی ہے کہ حیلوں بہانوں سے کام لینے کی بجائے اس ذمہ داری کو پورا کیا جائے ورنہ دوسری صورت میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تلخی اور دوری پیدا ہو گی۔صدر سردارزیب کے حجرے میں منعقدہ پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ضلعی صدر ملک نسیم خان کی صدارت میں منعقدہ اجتماع میں پارٹی کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر فیصلہ کیاگیا کہ سات مارچ کو دو بجے ارباب سکندرخان خلیل کی برسی ان کے حجرے تہکال میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ منائی جائے گی،جس سے اے این پی کے مرکزی اور صوبائی قائدین ارباب سکندرخان خلیل کی زندگی اور جدوجہد کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔اس موقع پر ضلعی صدر ملک نسیم نے کہا کہ ملک میں جاری بدامنی،شدت پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے اگر ہمارے قائدین کی بات مانی جاتی تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ ارباب سکندرخان خلیل اور دیگراکابرین کی پختون مٹی اورقوم کے لیے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،اور ہم ہرحالت میں اپنے قائدین کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن رہیں گے اور پارٹی سربراہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اپنے قائدین کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔