2016 ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کو تاریخ ساز سبق سکھانا ہوگا۔ سردار حسین بابک

ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کو تاریخ ساز سبق سکھانا ہوگا۔ سردار حسین بابک

ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کو تاریخ ساز سبق سکھانا ہوگا۔ سردار حسین بابک

مورخہ : 22.1.2016 بروز جمعہ

ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کو تاریخ ساز سبق سکھانا ہوگا۔ سردار حسین بابک
اے این پی پر امریکہ سے ڈالر لینے کا الزام لگانے والے آج خود حکومت میں بیٹھے ہیں قوم کو بتائیں کہ آج دھماکے کون کر رہا ہے۔
ہر طرف خوف و ہراس اور غیر یقینی کی کیفیت کا ماحول ہے، حکومتوں کو کھل کر میدان میں نکلنا ہوگا۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پختونوں کا قتل عام بند ہونا چاہیے۔ باچاخان مرکز میں سانحہ باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کی رسم قل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا ہے کہ غلط پالیسیاں اور فیصلوں کی وجہ سے کئی دہائیوں سے پختونوں کی نسل کشی جاری ہے۔ تشدد کی سوچ نے پختونوں کی زندگی مفلوج بنا کر رکھ دی ہے۔ عدم تشدد کی سوچ کو اپنانا ہوگا۔ عدم تشدد کے علمبرداروں کو اپنی صفوں کو مضبوط اور منظم بنانا ہوگا۔ تاکہ نہ ختم ہونے والے تشدد کا راستہ روکا جا سکے۔ پختون بے گناہ لوگوں کی لاشیں اُٹھا اُٹھا کر تھک گئے ہیں۔ ان کی برداشت کا مزید امتحان لینے کا وقت گزر گیا ہے۔ آج پختون بچہ بچہ پوچھ رہا ہے کہ کس جرم کی سزا مل رہی ہے۔ کس لیے قربان ہو رہے ہیں، حکومتوں کی مزید غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔ نان سٹیٹ ایکٹرز کے ساتھ آ ہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔ ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں کو تاریخ ساز سبق سکھانا ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کو عوام کو تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر عملی اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ غریب اور بے گناہ شہری مزید یقین دہانیوں اور دلاسوں پر گزارا نہیں کرسکیں گے۔ ہر طرف خوف و ہراس اور غیر یقینی کی کیفیت کا ماحول ہے۔ حکومتوں کو کھل کر میدان میں نکلنا ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز اور عوام کا مورال اُٹھانے اور بحال کرنے کیلئے حکومتیں مزید غفلت کے مرتکب نہیں ہونے دیں گے۔ اُنہوں نے اس بات پر انتہائی دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ پختونوں سے جینے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اے این پی پر امریکہ سے ڈالر لینے کا الزام لگانے والے آج خود حکومت میں بیٹھے ہیں قوم کو بتائیں کہ آج دھماکے کون کر رہا ہے۔ اے این پی نے جانوں کے نذرانے دیکر امن کو یقینی بنانے اور بدامنی کو ختم کرنے کیلئے میدان جنگ میں کھڑے رہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم پر الزامات لگانے والے آج اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سب نے مل کر تشدد کے علمبرداروں کو شکست دینا ہوگی ورنہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ کنٹرول کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بن جائیگا۔ اُنہوں نے شدت پسندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شہداء کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔

شیئر کریں