2016 راہداری منصوبے کے پیکجز کسی ایک صوبے کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سینیٹر ستارہ ایاز

راہداری منصوبے کے پیکجز کسی ایک صوبے کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سینیٹر ستارہ ایاز

راہداری منصوبے کے پیکجز کسی ایک صوبے کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سینیٹر ستارہ ایاز

مورخہ 10جنوری 2016ء بروز اتوار
راہداری منصوبے کے پیکجز کسی ایک صوبے کو منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سینیٹر ستارہ ایاز
پینتیس ارب ڈالر توانائی کیلئے مختص رقم سے کوئلہ اور سولر سے پنجاب میں بجلی بنانا ہمارے صوبے کے ساتھ یکسر زیادتی ہے
اے این پی کسی بھی حد تک جانے کو تیا رہے،مرکزی حکومت قومی وحدت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا ہے کہ چائنہ پاک راہداری منصوبے میں 35ارب ڈالر توانائی کیلئے مختص رقم سے کوئلہ اور سولر سے پنجاب میں بجلی بنانا ہمارے صوبے کے ساتھ یکسر زیادتی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کی کئی مواقع موجود ہیں جن سے نہ صرف سستی بجلیل پیدا ہو سکتی ہے بلکہ صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے بند راہیں بھی کھل جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ پانی کے علاوہ دیگر ذرائع سے بجلی پیدا کرنا نہ صرف مہنگا ہے بلکہ مرکزی حکومت پنجاب کے مزید شہروں کو بھی صنعتی زونز بنانے کیلئے راہ ہموار کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں، انہوں نے کہا کہ اے این پی کے دور حکومت میں بنائے گئے 24 منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹ اور پی سی ون تیار ہے جن سے ساڑھے8ہزار میگا واٹ انتہائی سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ،انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال خیبر پختونخوا کو ایک منظم منصوبے کے تحت نہ صرف نظر انداز کیا جا رہا ہے بلکہ آئینی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے ، سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ راہداری منصوبے میں 35ارب ڈالر کی خطیر رقم صوبے میں پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لہٰذا راہداری منصوبے کے تمام پیکجز کے لئے اے این پی کسی بھی حد تک جانے کو تیا رہے، انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو مزید نا انصافی سے گریز کرنا چاہئے اور دہشت گردی سے تباہ حال فاٹا اور خیبر پختونخوا میں راہداری منصوبے سے مستفید ہونے کا فراخدلانہ مظاہرہ کرتے ہوئے قومی وحدت کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ راہداری منصوبے کے پیکجز کسی ایک صوبے کو منتقل کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی ،اورمرکزی حکومت کو یاد رکھنا چاہئے کہ فاٹا خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا بچہ بچہ اس نا انصافی کے خلاف میدان عمل میں کھڑے ہونگے۔

شیئر کریں