مورخہ : 7.3.2016 بروز پیر

دہشت گرد وں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹنا ہوگا۔ میاں افتخار حسین
طالبان کے موجودہ شرائط مزاکرات کو سبو تاژ کرنے کی کوشش لگتی ہے۔
صوبائی حکومت نے’’بھتہ دو اور جان بچاو پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے شبقدر میں خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت اور معصوم افراد کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے لگتاہے کہ دہشت گرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہورہے ہیں۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک مذمتی بیان میں انہوں نے کہا کہ پے در پے دہشت گردی کے واقعات رونما ہورہے ہیں تاہم مرکزی اور صوبائی حکومت کی جانب سے قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد نظر نہیں آرہا ہے، جس سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اس قسم کے انسان دشمن حملوں کا موقع مل رہاہے،انہوں نے کہا کہ اگر حالات کی نزاکت کو سمجھا نہیں گیا تو آنے والے وقتوں میں بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا،انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اور بھتہ خوری میں اضافے کے باوجود صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کاروں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت پختونوں کو آگ کا ایندھن بنایا جارہاہے،انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کی مکمل بیخ کنی نہیں ہوگی اس پر قابو نہیں پایا جاسکتا،انہوں نے کہا کہچارملکی مزاکراتی عمل میں طالبان نے جو مشکل شرائط اب رکھے ہیں تو وہ مزاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش لگتی ہے ،انہوں نے کہا کہ جو چارممالک پہلے سے طالبان کے ساتھ مزاکراتی عمل کے لیے رابطے کررہے تھے تو کیا انہیں موجودہ رکھے گئے یہ مشکل شرائط معلوم نہیں تھے، انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدا نخواستہ طالبان نے مزاکرات سے انکار کردیا تواس سے دہشت گردی اور بھی بڑے گی ،میاں افتخارحسین نے کہا کہ طالبان کے موجودہ شرائط سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مزاکراتی عمل میں شریک چار ممالک کا اثر رسوخ طالبان پر کمزور پڑرہاہے،انہوں نے کہا کہ صوبے میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنک نے دہشت گردی سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کررکھی ہے،مگر صوبہ کے عوام کو صوبائی حکومت نے بھتہ خوروں کے رحم وکرم پر چھوڑرکھاہے، اور ان حالات میں بھی صوبائی حکومت ’’بھتہ دو اور جان بچاو ‘‘پالیسی کی تلقین کررہی ہے،جو باعث مذمت ہے،انہوں نے کہا دہشت گردی اور بھتہ خوری کی روک تھام میں حکومت بری طرح ناکام ہوئی ہے۔