Mian Iftekhar pic

مورخہ 16مارچ 2016ء بروز بدھ
دہشت گرد منظم ہو چکے ہیں ، کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ یقینی ہے ،میاں افتخار حسین
پشاور دھماکہ آپریشن ضرب عضب کے آخری مرحلے کا اعلان اور پھر 13دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کا رد عمل تھا
دہشت گرد ایسی کاروائیاں کر کے چاہتے ہیں کہ یہ صوبہ اُن کی آماجگاہ بن جائے ،
اے این پی کے دور حکومت میں ضرب عضب نوعیت کا آپریشن ہوتا تو دہشت گردی کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا
دہشت گرد اپنے رد عمل میں خیبر پختونخوا کو ہی کیوں ٹارگٹ کرتے ہیں، ایل آر ایچ میں میڈیا سے بات چیت
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دہشت گرد منظم ہو چکے ہیں ، طالبان نے مذاکرات کیلئے جو مشکل شرائط رکھیں وہ اسی وجہ سے رکھی گئیں تا کہ مذاکرات ملتوی ہو جائیں اور وہ اس دوران دہشت گردی کے اتنے واقعات کریں کہ پھر اپنی شرائط پر مذاکرات کر سکیں لہٰذا اب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ یقینی ہے ،حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے اقدامات کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بم دھماکے کے زخمیوں کی عیادت اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے پشاور صدر میں سرکاری ملازمین کی بس پر بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت اور واقعے میں بے گناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اے این پی بار بار یہ بات دہرا چکی ہے کہ دہشت گرد منظم ہو رہے ہیں اور اب ان واقعات میں تیزی آئے گی تاہم اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا جس کا خمیازہ یہاں کے عوام اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بھگت رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی بس پر حملہ آپریشن ضرب عضب کے آخری مرحلے کا اعلان اور پھر 13دہشت گردوں کے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کا رد عمل تھا ، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گرد جب بھی اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں یا اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں تو وہ خیبر پختونخوا کو ہی ٹارگٹ کرتے ہیں ،چاہے وہ فوج ،پولیس سیاستدانوں یا پھر سرکاری ملازمین اور بے گناہ عوام کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بدلہ خیبر پختونخوا کے عوام سے لیا جاتا ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ ایک مخصوص سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور دہشت گرد ایسی کاروائیاں کر کے چاہتے ہیں کہ یہ صوبہ اُن کی آماجگاہ بن جائے ،انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں اور فوج مل بیٹھ کر ایسے اقدامات کریں جس سے خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی جا سکے ،انہوں نے کہا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی حالت زار پر افسوس کا ظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صوبے کا واحد ہسپتال تھا جو بم دھماکے کے زخمیوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرتا تھا تاہم آج صورتحال مختلف ہے البتہ جاں بحق ہونے والوں کیلئے تابوتوں کا فوری طور پر انتظام ہونا اچھی بات ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اب عملی طور پر مرکزی و صوبائی حکومتوں کے اقدامات سنجیدہ نہیں اور نہ ہی ان کے ارادے مضبوط نظر آ تے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر اے این پی کے دور حکومت میں آپریشن ضرب عضب اس نوعیت کاہوتا تو یہ بات یقینی تھی کہ دہشت گردی کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کیلئے ہر جگہ ایسا آپریشن ہونا چاہئے اورسیکورٹی کی افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے ایف سی کو فور ی طور پر صوبے کے حوالے کیا جائے تا کہ عوام کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔