2016 دہشت گرد سازش کے تحت پختون بچوں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، سردار حسین بابک

دہشت گرد سازش کے تحت پختون بچوں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، سردار حسین بابک

دہشت گرد سازش کے تحت پختون بچوں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، سردار حسین بابک

مورخہ 24جنوری 2016ء بروز اتوار
دہشت گرد سازش کے تحت پختون بچوں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، سردار حسین بابک
دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو پختون قوم متاثر ہوتی رہے گی
نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا،

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ سرحد کے آر پار دونوں جانب پختون اذیت ناک دور سے گزر رہے ہیں اور انہیں مجموعی طور پر دہشت گردی جیسے بڑے ناسور کا سامنا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو پختون قوم متاثر ہوتی رہے گی ، انہوں نے کہا کہ پختون خطہ کئی دہائیوں سے نامساعد حالات کا شکار ہے اور اب اس پر انہیں تعلیم سے محروم رکھنے کی جس مذموم سازش کا آغاز کیا گیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے پی ایس کے دلخراش واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کا نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہونا خوش آئند ہے تاہم اس کے تمام 20نکات پر من و عن عملدرآمد ہونے تک امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے پاکستان کا امن کا قیام پر امن افغانستان سے مشروط ہے ، لہٰذا دونوں ملکوں کو آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے تاکہ پختون قوم کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے ، سردار بابک نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،اور صرف وزیرستان میں محدود جاری آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی کا خاتمہ کبھی ممکن نہیں ہو گا ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ با چاخان کے نام سے منسوب علمی درسگاہوں کو اس لیے نشانہ بنایا جارہاہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اے این پی کی پالیسی بالکل واضح ہے ،انہوں نے کہا دہشت گرد ایک سازش کے ذریعے پختون بچوں اور والدین میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے مرکزی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی جیسے واقعات سے بچنے کیلئے سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔

شیئر کریں