مورخہ 27مارچ 2016ء بروز اتوار

دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے، ہارون بشیر بلور
دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو پختون قوم متاثر ہوتی رہے گی
ایک سازش کے ذریعے دہشت گرد پختونوں میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ سرحد کے آر پار دونوں جانب پختون اذیت ناک دور سے گزر رہے ہیں اور انہیں مجموعی طور پر دہشت گردی جیسے بڑے ناسور کا سامنا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو پختون قوم متاثر ہوتی رہے گی ، انہوں نے کہا کہ پختون خطہ کئی دہائیوں سے نامساعد حالات کا شکار ہے اور اب انہیں تعلیم سے محروم رکھنے کی جس مذموم سازش کا آغاز کیا گیا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے ، انہوں نے کہا کہ اے پی ایس کے دلخراش واقعے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کا نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہونا خوش آئند ہے تاہم اس کے تمام 20نکات پر من و عن عملدرآمد ہونے تک امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے پاکستان کا امن کا قیام پر امن افغانستان سے مشروط ہے ، لہٰذا دونوں ملکوں کو آپس کی غلط فہمیاں دور کر کے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے تاکہ پختون قوم کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،اور صرف وزیرستان میں محدود جاری آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی کا خاتمہ کبھی ممکن نہیں ہو گا بلکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے ملک بھر میں آپریشن ہو نا چاہئے،انہوں نے کہا دہشت گرد ایک سازش کے ذریعے پختون بچوں اور والدین میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے مرکزی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات سے بچنے کیلئے سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں اور سیکورٹی کی صورت حال پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنا یا جا سکے۔