2016 دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،میاں افتخار حسین

دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،میاں افتخار حسین

دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،میاں افتخار حسین

مورخہ 22جنوری 2016ء بروز جمعہ
دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،میاں افتخار حسین
باچا خان یونیورسٹی کو اس لئے نشانہ بنایا گیاکہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اے این پی کی پالیسی بالکل واضح ہے
جب تک ملک بشمول پنجاب میں کام کرنے والی 70کالعدم تنظیمیں کے خلاف آپریشن نہیں کیاجاتادہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا ناممکن ہے
حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ’’گڈ‘‘ اور ’’ بیڈ ‘‘ کا فرق ختم کرنا ہو گا،نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل ناگزیر ہو چکا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے،اور صرف وزیرستان میں محدود جاری آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی کا خاتمہ دیوانے کا خواب ہو گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کی رسم قل کے موقع پر منعقدہ دعائیہ تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر شہداکے ایصال ثواب کیلئے ختم القرآن کا اہتمام کیا گیا اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ، پارٹی کے مرکزی و صوبائی قائدین سمیت ڈسٹرکٹ پشاور اور سٹی ڈسٹرکٹ کے صدور و عہدیداروں اور کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی،میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ با چاخان کے نام سے منسوب علمی درسگاہوں کو اس لیے نشانہ بنایا جارہاہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اے این پی کی پالیسی بالکل واضح ہے ،،انہوں نے کہا دہشت گرد ایک سازش کے ذریعے پختون بچوں اور والدین میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ جلد ازجلدایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور دہشت گردی کی اطلاعات کے باوجود سیکورٹی کے ناقص انتظامات کا جائزہ لیاجائے،انہوں نے کہا جس طرح قبائلی عوام کو بے گھر کرکے وہاں دہشت گردوں کے لیے جگہ خالی کردی گئی اسی طرح عمل صوبے میں دھرایا جارہاہے انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے عوام نے امن کی خاطر اپنا گھربار چھوڑاہے،،نیشنل ایکشن پلان میں قبائلی عوام کی پسماندگی کو دور کرنے کا نقطہ بھی شامل ہے اور وعدہ کیا گیا تھا کہ متاثرین کی ہر قسم امداد اور ان کی آبادکاری پہلی ترجیح ہوگی تاہم ابھی تک مرکزی اور صوبائی حکومت نے متاثرین کا پوچھا تک نہیں ہے،میاں افتخار حسین نے کہاکہ جب تک نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر فوری عمل درآمد نہیں کیاجاتااورپورے ملک بشمول پنجاب میں کام کرنے والی 70کالعدم تنظیمیں کے خلاف آپریشن نہیں کیاجاتادہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا ناممکن ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ’’گڈ‘‘ اور ’’ بیڈ ‘‘ کا فرق ختم کرنا ہو گا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہے اور اس میں اچھے اور برے کی کوئی تمیز نہیں ہونی چاہئے ،مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والوں کی تعداد چار سے زائد تھی اور اس بارے میں موجود ابہام دور کیا جانا چاہئے جبکہ حملوں کی پیشگی اطلاع کے باوجود یونیورسٹی سمیت دیگر عمارتوں کی حفاظت کیلئے اقدامات نہ اُٹھانا حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے جس کا نوٹس لینا چاہیے۔

شیئر کریں