2016 دہشت گردی کے خلاف پختونوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی پالیسی جاری ہے ، سردار حسین بابک

دہشت گردی کے خلاف پختونوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی پالیسی جاری ہے ، سردار حسین بابک

دہشت گردی کے خلاف پختونوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی پالیسی جاری ہے ، سردار حسین بابک

مورخہ 10جنوری 2016ء بروز اتوار
دہشت گردی کے خلاف پختونوں کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی پالیسی جاری ہے ، سردار حسین بابک
پختونوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے چائنہ پاک اکنامک کوریڈور اہم منصوبہ ہے، مغربی روٹ نقشے کے مطابق تعمیر کیا جانا چاہئے
تمام سیاسی جماعتون کا راہدار منصوبے پر اتفاق خوش آئند ہے ، پختونوں کے خلاف سازشوں کا باہمی اتحاد سے مقابلہ کرنا ہوگا
اے این پی دور میں تعلیمی شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کسی سے پوشیدہ نہیں، کتاب رونمائی کی تقریب سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پختونوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے چائنہ پاک اکنامک کوریڈور اہم منصوبہ ہے اور اس کے مغربی روٹ کی تعمیر پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق خوش آئند ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتو کے نامور شاعر اطلس خان اطلس کی کتاب رونمائی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر پشتو کے معروف شعراء اورادباء بھی اس موقع پر موجود تھے ، سردار حسین بابک نے اپنے خطاب میں اطلس خان کو اس کاوش پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ماضی میں ہمیشہ پختونوں کو سازش کے تحت غربت جہالت اور پسماندگی کی جانب دھکیلا گیا اور ان میں احساس کمتری اور احساس محرومی پیدا ہواجبکہ ان سازشوں کی نشاندہی بھی ہمارے اسلاف نے کئی بار کی ،انہوں نے کہا کہ چائنہ پاک اقتصادی راہداری منصوبہ پختونوں کی ترقی کا منصوبہ ہے جسے سازش کے تحت تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پختونوں کے حقوق کیلئے تمام جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور اس کا تمام کریڈٹ اے این پی کے قائد اسفندیار ولی خان کے سر ہے ، انہوں نے کہا کہ پختون قوم کے معاشرتی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا راستہ کانٹوں سے بھرا ہے لیکن یہ کانٹے ہماری دھرتی کی پیداوار نہیں ، انہوں نے کہا کہ اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان تمام مسائل کا حل ممکن ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پختونوں کا ہوا لیکن ان کی قربانیوں کو یکسر فراموش کرنے کی پالیسی آج بھی جاری ہے ، سردار حسین بابک نے کہا اس خطے کے 50ہزار افراد دہشت گردی کی نذر ہو گئے لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے اعلانات کرنے والے ان قربانیوں کا ذکر کرنے سے کترا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہزاروں سکول تباہ کئے گئے ،انفراسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچایا گیا لیکن آج تک ان سکولوں کی دوبارہ تعمیر کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ، انہوں نے اے این پی کے دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کسی سے پوشیدہ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ پختونوں کے حقوق کے حصول کیلئے پختون دانشور ، ادیب ،سعراء اور ہر طبقہ فکر ست تعلق رکھنے والے افراد اپنا اپنا کردار ادا کریں صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ پختونوں کی بیداری میں اہل دانش اور تعلیم یافتہ طبقہ کا بہت بڑا کردار رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت پختونوں کے ادب کو بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ان سازشوں کا مؤثر جواب دینے کیلئے باہمی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

شیئر کریں