2016 دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہماری داخلی اور خارجی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ میاں افتخار حسین

دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہماری داخلی اور خارجی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ میاں افتخار حسین

دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہماری داخلی اور خارجی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ میاں افتخار حسین

مورخہ : 21 جنوری 2016 بروز جمعرات

دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہماری داخلی اور خارجی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے ۔ میاں افتخار حسین
اگر یونیورسٹی کے گارڈز نے عملی مزاحمت نہ کی ہوتی تو شہادتوں کی تعداد زیادہ ہوتی، عوام کا کردار بھی قابل ستائش رہا۔
* صرف وزیرستان کے اندر محدود آپریشن سے دہشتگردی کا خاتمہ نا ممکن ہے۔ دائرہ پنجاب تک بڑھانا لازمی ہے۔
اپیکس کمیٹی میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ میاں افتخار حسین کا باچا خان یونیورسٹی کا دورہ، حکام سے ملاقاتیں اور شہداء کی تعزیت۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہاہے کہ جب تک نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر فوری عمل درآمد نہیں کیاجاتا،پورے ملک بشمول پنجاب جہاں 70کالعدم تنظیمیں اب بھی کھلے عام پھر رہی ہیں،ان کے خلاف آپریشن نہیں کیاجاتادہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا ناممکن ہے،صرف وزیرستان میں محدود جاری آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی کا خاتمہ دیوانے کا خواب ہے،اچھے اور برے طالبان کی تفریق ختم کرنا ہوگی،ملک میں جاری دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ ہماری ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچاخان یونیورسٹی کے دورے کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی پر ہونے والے حملے میں اگریونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈز اور مقامی لوگ مذاحمت اور مقابلہ نہ کرتے تو بہت بڑی تباہی ہوسکتی تھی، انہوں نے دہشت گردوں کو اپنے مخصوص ہدف تک پہنچنے نہیں دیا، اورپولیس اور فوج کے آنے تک دہشت گردوں کوگھیررکھاتھا، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد چار سے زیادہ لگتی ہے، کیوں کہ بیک وقت مختلف بلاکس پرحملہ کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ دہشت گرد س سے زیادہ تھے ، ہوسکتا ہے کہ دیگر دہشت گرد چھت سے پھلانگ لگاکر بھاگنے میں کامیاب ہوئے ہوں،انہوں نے کہا کہ مقامی افراد خراج تحسین کے لائق ہیں کہ وہ اپنی علمی درسگاہ کی حفاظت کے لیے نکل آئے ، انہوں نے کہادہشت گردی کے خاتمے کو ایجنڈا میں پہلی ترجیح دینی ہوگی اور اس مائنڈ سیٹ کو مات دینی ہوگی، جیسے گزشتہ چار دہائیوں سے بنایا گیاہے،انہوں نے کہا باچاخان جیسی عدم تشدد اور امن کی داعی شخصیت کے نام سے منسوب یونیورسٹی میں معصوم طالب علموں،اساتذہ اور عملے کو بے دردی سے شہید کرنا پوری دنیا کے لیے باعث شرم ہے کیوں کہ باچاخان نے ساری زندگی دنیا کو امن اور عدم تشدد کا درس دیاہے،انہوں کہا کہ باچاخان کے پیروکاروں اور باچاخان کے نام سے منسوب علمی درسگاہوں کو اس لیے نشانہ بنایا جارہاہے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف اے این پی کی پالیسی بالکل واضح ہے ،ساتھ اس قسم کی وارداتوں سے دنیاکو علم اور تعلیم سے دشمنی دکھانا ہے،انہوں نے کہا دہشت گرد ایک سازش کے ذریعے پختون بچوں اور والدین میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے مطالبہ کیا کہ جلد ازجلدایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور دہشت گردی کی اطلاعات کے باوجود سیکورٹی کے ناقص انتظامات کا جائزہ لیاجائے،انہوں نے کہا جس طرح قبائلی عوام کو بے گھر کرکے وہاں دہشت گردوں کے لیے جگہ خالی کردی گئی اسی طرح عمل صوبے میں دھرایا جارہاہے انہوں نے کہا کہ وزیرستان کے عوام نے امن کی خاطر اپنا گھربار چھوڑاہے،،نیشنل ایکشن پلان میں قبائلی عوام کی پسماندگی کو دور کرنے کا نقطہ بھی شامل ہے اور وعدہ کیا گیا تھا کہ متاثرین کی ہر قسم امداد اور ان کی آبادکاری پہلی ترجیح ہوگی تاہم ابھی تک مرکزی اور صوبائی حکومت نے متاثرین کا پوچھا تک نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں پشاور کو بڑے حملوں سے بچانے کیلئے داخلی راستوں پر پولیس کی چارسو کے قریب چیک پوسٹیں قائم کی تھیں جن کے باعث دوسری کارروائیوں کے علاوہ سترہ سے زائد بڑے حملے ناکام بنائے گئے۔ تاہم موجودہ حکومت کے پاس ایسا کوئی پلان نہیں ہے ۔ حملوں کی پیشگی اطلاع کے باوجود یونیورسٹی سمیت دیگر عمارتوں کی حفاظت کیلئے اقدامات نہ اُٹھانا حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے جس کا نوٹس لینا چاہیے۔
دریں اثناء میاں افتخارحسین نے یونیورسٹی کے تمام بلاکس کامعائنہ کیا،اور وی سی سے شہید ہونے والے طالب علموں اور اساتذہ کے درجات بلند کرنے کے لیے فاتخہ خوانی اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔اُنہوں نے چارسدہ میں تین شہداء کے گھروں پر جا کر ان کے اہل خانہ کیساتھ اظہار افسوس کیا اور شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ وہ جن شہداء کے گھر گئے ان میں حیدر ولد منتظر شاہ ، صابر ولد رحمان اللہ اور فخر عالم ولد شاہ حسین شامل ہیں۔

شیئر کریں