مورخہ 4 اپریل 2016ء بروز پیر

دہشتگردی کے اثرات سے گزرنے والے ملاکنڈ ڈویژن پر کسٹم ایکٹ کا نفاذ ظالمانہ ہے۔ اسفندیار ولی خان
ظالمانہ اقدام میں صوبائی حکومت بھی برابر کی مجرم ہے۔ وفاق نے 2060 تک کسی بھی قسم کے ٹیکس نافذ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی نے ملاکنڈ میں کسٹم ایکٹ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیاہے۔
ظالمانہ ایکٹ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پشاور ( پ ر)عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یا ر ولی خان نے کہا ہے کہ مالا کنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے خلاف اے این پی نے احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے اور مالا کنڈ کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیموں کو احتجاجی مظاہروں کی ہدایت دے دی گئی اس ظالمانہ ایکٹ کے خلاف عوامی نیشنل پارٹی بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مالا کنڈ ڈویژن پاکستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہے۔دہشت گردی کے شکار اس علاقے سے کاروبار ،تجارت ختم اور انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہو چکا ہے۔سیلاب اور زلزلے بھی اس علاقے میں تباہی پھیلاتے رہتے ہیں 2010کے سیلا ب اور زلزلوں کے متاثرین در بدر ہیں ۔وفاقی حکومت تباہ شدہ علاقوں کی بحالی اور متاثرین کی داد رسی کے بجائے کسٹم ایکٹ کے نفاذ کے ذریعے مظلوم شہریوں کے خلاف ظالمانہ قدم اٹھانے سے باز رہے۔اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ کسٹم ایکٹ کا نفاذ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے ۔وفاق کی طرف سے مالا کنڈ میں 2060تک کسی بھی قسم کا ٹیکس نافذ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے دار القضا ء قائم کیا جس سے معاملات بہتر ہوئے۔وفاق کی طرف سے ظالمانہ ایکٹ کے نفاذ میں صوبائی حکومت بھی برابر کی مجرم ہے ۔اسفند یار ولی خان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے بر وقت آگاہ کرنے والے اور سیلاب روکنے والے تمام وفاقی محکمہ جات اور شہریوں کو مدد کے ذمہ دار صوبائی ادارے حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے شہریوں کو بر وقت امداد نہ دے کر مکمل ناکام ہوئے ہیں۔پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے دریاؤں ندی نالوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کو بروقت نہ نکالنے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔جن کی تمام تر ذمہ داری وفاق اور صوبے پر ہے۔اسفند یار ولی خان نے کہا کہ وفاق معاملات کو بہتر کرنے کی بجائے شہریوں پر ظلم کرنے کی روایت کو بند کرے۔ وزیر اعلی کے پی کے ،بنی گالہ کی گھریلو ملازمت اور صوبائی وزراء بیرون ملک کاروبار میں اضافے سے توجہ ہٹا کر صوبے کے مسائل کے حل اور شہریوں کی بہتری کے اقدامات کریں۔