مورخہ : 26.4.2016 بروزمنگل

دہشتگردی اور جرائم پیشہ گروپ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ میں ایک دوسرے کو معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔ میاں افتخار حسین
تفتیش کا رخ بدلنے اور کریڈٹ لینے کیلئے فریقین ریاستی اداروں اور میڈیا کومبہم اور غلط اطلاعات بھی فراہم کرتے ہیں۔
میڈیا کوشش کرے کہ کسی واقعے کی تصدیق سے قبل ذمہ داری لینے یا عائد کرنے کی خبروں سے گریز کریں۔
مرحوم امداد حسین کے پسماندگان سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو

پشاور(پریس ریلز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہاہے کہ صوبے میں حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں نے اب باقاعدہ ایک کاروبارکی شکل اختیار کرلی ہے،بظاہر لسانی عصبیت، فرقہ واریت،لبرل ازم،روشن خیالی کے نام پر لوگوں کو شہید کیاجارہاہے، تاہم اس کا مقصد لوگوں میں دہشت اور خوف و ہراس کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد کو تحفظ بھی فراہم کرناہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز شہیدکیے جانے والے ہندکو اور اردو زبان کے معروف شاعر وادیب صابر حسین امداد اور ان کی بہو ڈاکٹر زینب کے پس ماندگان سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ اقلیتی رکن اسمبلی سورن سنگھ کے قتل کی تحقیقات نے جو نئی شکل اختیار کی ہے اس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ انہیں قتل اپنے ایک سیاسی حریف نے کیاہے اور ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے،جس سے اب یہ بات ڈھکی چھپی نہ رہی کہ صوبے میں دہشت گردوں کے ایک منظم گروپ کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ایک غیرمنظم گروپ بھی وجود میں آئے ہیں جو اپنی کارروائیوں کو انتظامیہ سے چھپانے ،تفتیش کا رخ موڑنے اور متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کی توجہ کسی دوسری جانب مبذول کروانے کے لیے اس قسم کی وارداتیں کررہے ہیں،اور ہر کارروائی کا باقاعدہ معاوضہ کالعدم تحریک طالبان کو اس لیے دے رہا ہے تاکہ ایک طرف لوگوں میں خوف و ہراس بھی پھیلے اور تفتیش کا رخ بھی کسی دوسری جانب موڑ دیاجائے،انہوں نے کہا اس قسم کی کارروائیوں میں اب مختلف مکتبہ فکر کے جرائم پیشہ افراد شامل ہیں جس کا تدارک صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی ذمہ داری ہے،انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ،بھتہ خوری،دہشت گردی اورشدت پسندی ہمارے معاشرتی وجودکو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے،جس کی بنیادی وجہ معاشرے میں بنیادپرستی اور انتہاپسندی ہے اور جب تک ملک سے انتہاپسندی اور بنیادپرستی کو جڑسے اکھاڑا نہیں جاتا تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے،میاں افتخارحسین نے کہا کہ میں میڈیا سے گزارش کرتاہوں کہ جب تک دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی کوئی خبر مصدقہ نہ ہو اس کا چلانا مناسب نہیں ہے،کیوں کہ غیرمصدقہ اطلاعات اور خبروں سے دہشت گردوں کو تقویت ملتی ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی موجودہ نئی شکل اور طریقہ واردات پر مکمل قابو پانے کے لیے اب نئی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی، سورن سنگھ کیس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ دہشتگرد گروپس اور جرائم پیشہ لوگ حکومت کی غفلت کے باعث ایک دوسرے کو اپنے اپنے مفاد میں استعمال کرتے آ رہے ہیں اور یہ عناصر ایک دوسرے کو معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس قسم کے نیٹ ورکس توڑنے اور حقائق تک پہنچنے کیلئے لازمی ہے کہ ان کے گروپس کی نیٹ ورکنگ اور کوآپریشن پر فوکس کیا جائے اور دہشتگردی ، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے نمٹنے کیلئے دیگر اقدامات کے علاوہ مقامی جرائم پیشہ گروپس پر بھی ہاتھ ڈالا جائے تاکہ فریقین کی باہمی انڈر سٹینڈنگ کو توڑا جائے اور ابہام پر مبنی دعوؤں اور اطلاعات کا راستہ بھی روکا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کلی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور متعلقہ حکومتی اداروں کو اس تناظر میں نئی اور موثر حکمت عملی اپنا نا ہو گی۔ اُنہوں نے متعلقہ تفتیشی اداروں سے مطالبہ کیا کہ صابر حسین امداد اور اُن کی بہو کے واقعے کا بھی سورن سنگھ کیس کے خطوط پر تحقیقات کی جائیں۔