مورخہ : 5.3.2016 بروز ہفتہ

دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ میاں افتخار حسین
ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر عملی اقدامات کے علاوہ کراس بارڈر ٹیرر ازم کے خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
صوبے کے عوام موجودہ حکومت سے مایوس ہو کر پھر سے اے این پی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ پبی میں شمولیتی اجتماع سے خطاب

پشاور (پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عوام تین سالہ تجربے کے بعد تبدیلی کی دعویدار صوبائی حکومت سے مایوس ہو گئے ہیں اور پھر سے اے این پی کی طرف دیکھنے لگے ہیں کیونکہ ان کو علم ہے کہ امن کے قیام ، صوبے کی ترقی اور علاقائی استحکام کیلئے اے این پی کاکردار سب سے نمایاں باجرأت اور واضح رہا ہے اور ان مقاصد کے حصول کی جدوجہد میں پارٹی نے بے پناہ قربانیاں دے رکھی ہیں۔
طائزے پبی کی ممتاز سماجی شخصیت حاجی خیال میر اور متعدد دیگر کی اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ بجٹ زیر استعمال لایا گیا ہے اور لیپس کی خبریں غلط ہیں، سچی بات تو یہ ہے کہ تین سالہ دور اقتدار کے دوران حکومت کی کارکردگی انتہائی منفی اور ناقص رہی ہے اور صوبے کے مفادات کو اس عرصہ کے دوران کئی بار خطرات اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
اُنہوں نے کہا کہ دوسری ناکام پالیسیوں کی طرح شجر کاری مہم کی ناکامی اور حشر تازہ مثال ہے جس کی آڑ میں اربوں روپے اُڑائے گئے مگر عملاً کچھ بھی کرنے کو نہیں ملا۔
دہشتگردی کے ایشو پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اس کی مزاحمت ، عدم تشدد کی پرچار اور علاقائی امن کے قیام کیلئے کئی دہائیوں تک جدوجہد کی اور اس کی سب سے بڑی قیمت بھی چکائی۔ اے این پی اب بھی اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ وزیرستان آپریشن اور بعض دیگر اقدامات کے ذریعے دہشتگردی کم تو ہوئی مگر ختم نہیں ہوئی۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کیا جائے۔ اس کا دائرہ بڑھایا جائے اور کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کیلئے افغانستان کے خدشات کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ لگ یہ رہا ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی کے خاتمے کی کوششوں سے لاتعلق ہیں اور اس ناسور کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ فنڈز اور وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور سیاسی ، سفارتی سطح پر کوششوں کے ذریعے انتہا پسندی کے مائینڈ سیٹ کے خاتمے کیلئے پالیسیاں بنائیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو باچا خان یونیورسٹی سمیت متعدد دوسری کارروائیاں نہیں ہوئی ہوتیں۔ صدر اوباما اور متعدد دیگر اہم عالمی لیڈروں کا یہ کہنا تشویشناک ہے کہ داعش اور دیگر کی کارروائیاں مزید کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ حالانکہ ہماری قیادت کا دعویٰ ہے کہ 2016 کے دوران دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عملی اقدامات کے ذریعے اس ناسور اور اس کے مراکز کو ختم کیا جائے تاکہ پر امن معاشرے اور ترقی کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔