مورخہ 25مئی2016ء بروز بدھ

دوران زچگی ہونے والی اموات نسل کُشی کی سازش ہے، حاجی محمد عدیل
صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے،تھر کے بعد خیبر پختونخوا میں اتنی بڑی تعداد میں بچے جاں بحق ہوئے
وزیر صحت بتائیں کہ کیا اسی تبدیلی کیلئے پختونوں کو ورغلایا گیا،حکومت اس معاملے پر اپنی پوزیشن کلیئر کرے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں واقعی تبدیلی آ چکی ہے کیونکہ گزشتہ 15ماہ میں دوران زچگی 300مائیں اور 11ہزار سے زائد نومولود صحت کی بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں ، اپنے ایک بیان میں حاجی محمد عدیل نے کہا کہ صوبے میں صحت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے لیکن صوبائی حکومت اس جانب صرف اس لئے توجہ نہیں دے رہی کیونکہ اس شعبہ کو پی ٹی آئی کے مالی معاونین کے ہاتھ اونے پونے داموں فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ، انہوں نے اس امر پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا کہ تھر کے بعدصوبہ خیبر پختونخوا میں بھی نومولود بچوں کی ہلاکت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جو اس قوم کی نسل کشی کی سازش دکھائی دے رہی ہے، انہوں نے کہا وزیر صحت بتائیں کہ کیا یہی وہ تبدیلی تھی جس کے جھوٹے اور فریبی نعروں سے پختون قوم کو ورغلایا گیا ، حاجی محمد عدیل نے کہا کہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہو چکی ہے ،اور اس جانب توجہ سب کی ذمہ داری ہے ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کی سہولیات کے فقدان کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے عوام کو درپیش مسائل کا حل نکالا جائے اور اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن کلیئر کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں میں نرسنگ سٹاف سے لے کر ڈاکٹر برادری تک ہڑتالوں اور احتجاج میں مصروف ہیں لیکن اناڑی حکمران بنیادی مسائل کی جانب توجہ دینے کی بجائے شجرکاری میں مصروف ہیں ،انہوں نے کہا کہ زچگی کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کو روکنے اور صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے حکومت کو سنجیدہ پالیسی بنانا ہو گی۔