مورخہ 15فروری 2016ء بروز پیر
دشمن کے بچوں کو پڑھانے والوں نے لاکھوں پشتون بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیئے۔،سینیٹر ستارہ ایاز
حکومت نے گناہگاروں اور بے گناہوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے، متعصبانہ رویہ ملک کے مفاد میں نہیں
پاکستان میں خواندگی کا تناسب تشویشناک حد تک کم ہے اور لازمی پرائمری تعلیم بدستور خواب بنی ہوئی ہے
شناختی کارڈز کی آڑ میں مستقبل تاریک نہ بنایا جائے، مسائل کو حل کرنے کی بجائے گھمبیر بنانے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی نائب صدر سینیٹر ستارہ ایاز نے اسلام آباد سمیت پنجاب اور آزاد کشمیر کے سکولوں سے لاکھوں پشتون بچوں کی بے دخلی پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعصبانہ رویہ قرار دیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بظاہر تو ان بچوں کو ان کے والدین کے شناختی کارڈز میں غلطیوں کی وجہ سے تعلیمی اداروں سے بے دخل کیا گیا تاہم یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کارڈز کی چھان بین کی جائے نہ کہ معصوم بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کئے جائیں ، انہوں نے کہا کہ ایک طرف ریاست دشمن کے بچوں کو تو پڑھانے کا سبق دیتی ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی پشتون بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں، ستارہ ایاز نے کہا کہ لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کیلئے وفاقی حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہونگے اور مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید گھمبیر بنانے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی ، انہوں نے کہا کہ ان میں بیشتر بچے ان لوگوں کے ہیں جو پاکستان بننے کے وقت سے یہاں آباد ہیں لیکن حکومت نے گناہگاروں اور بے گناہوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں خواندگی کا تناسب تشویشناک حد تک کم ہے اور لازمی پرائمری تعلیم بدستور خواب بنی ہوئی ہے‘ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 5 سال سے 19 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد 7 کروڑ سے زائد ہے جن میں صرف 27 فیصد اسکول یا کالج جاتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور سڑکوں پر پھر رہے ہیں۔ ایک جانب اسکول جانے والے بچوں کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہے تو دوسری جانب حکومت سکول جانے والوں پر حیلوں بہانوں سے تعلیم کے دروازے بند کر رہی ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈز کی آڑ میں لاکھوں بچوں کا مستقبل تاریک نہ بنایا جائے اور پشتون بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنے کی روش سے گریز کیا جائے۔