خیبر پختونخوا کے صارفین سے ایل این جی سرچارج کے نام پر 43 ارب روپے ظالمانہ اقدام ہے۔
وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری اور آئینی اداروں کو پاؤں تلے روند رہی ہے۔
فیصلہ واپس نہ لیا گیا تواین وائی او کے نوجوان بھرپور مزاحمت کرینگے۔ سنگین خان ایڈوکیٹ

پشاور ( پریس ریلیز) نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے صوبائی صدر سنگین خان ایڈوکیٹ نے سوئی سدرن اوگرا کو خیبر پختونخوا کے صارفین سے ایل این جی سرچارج کے نام پر 43 ارب روپے کے ٹیکس کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری اور آئینی اداروں کو پاؤں تلے روند رہی ہے اور پنجاب کی خوشحالی کیلئے پختونخوا اور چھوٹے صوبوں کا استحصال کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مذکورہ ایل این جی پائپ لائن پنجاب کیلئے تعمیر کیا جا رہا ہے اور درکار قسم کا تقریباً نصف حصہ پختونخوا سے ٹیکس کے نام پریہاں کی عوام سے سوئی گیس بلوں کے ذریعے بٹور ے جا رہے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک طرف سی پیک کے منصوبے کیلئے بطور قرض 4600 ارب روپے کی خطیر رقم کے منصوبے پنجاب میں شروع کیے جا رہے ہیں اور اس قرض کو پورے پاکستان سے وصول کیا جائیگا جبکہ دوسری طرف ایل این جی جیسے منصوبوں کیلئے جس میں پختونخوا شامل ہی نہیں پختونخوا کے عوام سے بٹورے پیسوں پر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے جو نہایت شرمناک ہے۔اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کونسل آف کا مین انٹر نیٹ ہیں CCI اور ECC جیسے اداروں کو روند کر اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم ایک غیر آئینی فورم اکنامک کو آرڈیننس کمیٹی کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لے بصورت دیگر نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نوجوان اس کے خلاف بھر پور مزاحمت کرینگے۔