مورخہ 29مارچ 2016ء بروز منگل
خیبر پختونخوا میں سکولوں کی بندش حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ہارون بشیر بلور
متعدد تعلیمی ادارے ہیڈ ماسٹرز کے بغیر چل رہے ہیں تاہم حکمران اس اہم عوامی مسئلے سے غافل ہیں
دو سو پرائمری اساتذہ بی پی ایس 14میں ترقی کے منتظر ہیں، حکومت اہم مسائل پر بھی توجہ دے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بیشتر تعلیمی اداروں کی بندش کے انکشاف کے بعد تعلیم سب کیلئے کے دعوؤں کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی ہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر محکموں میں جو انقلابی اصلاحات کیں اُن کے ثمرات عوام تک پہنچے اور تاریخ گواہ ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا ، انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں اور بعد ازاں کپتان نے تعلیم سب کیلئے کا جو نعرہ لگایا وہ ہوا ہو چکا ہے صوبے میں بیشتر تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں جبکہ متعدد ہیڈ ماسٹرز کے بغیر چل رہے ہیں تاہم حکمران اس اہم عوامی مسئلے سے غافل ہیں ، انہوں نے کہا کہ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی زوال پذیر ہے اور ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکس آئے روز ہڑتالوں پر مجبور ہیں جس کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی حالت زار کا کوئی پُرسان حال نہیں ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ 129سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے جبکہ200پرائمری اساتذہ آج تک بی پی ایس 14میں ترقی کے منتظر ہیں اور 18ماہ گزرنے کے باوجود ڈی پی سی کا اجلاس نہ ہو سکا جو حکومت کی تعلیمی شعبہ میں عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صرف درختوں پر توجہ دینے کی بجائے تعلیم صحت اور دیگر شعبوں کی زبوں حالی پر بھی خصوصی توجہ دے تا کہ عوام کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں ۔