مورخہ یکم مئی 2016ء بروز اتوار

خیبر پختونخوا میں تباہ شدہ سکولوں کی بحالی آج تک نہیں کی جا سکی ۔ ہارون بشیر بلور
متعدد تعلیمی ادارے ہیڈ ماسٹرز کے بغیر چل رہے ہیں تاہم حکمران اس اہم عوامی مسئلے سے غافل ہیں
صحت کا شعبہ رو بہ زوال ہے ، ہسپتا لوں میں مریضوں کو ادویات و دیگر سہولیات سے محروم کر دیا گیا ہے۔

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بیشتر تعلیمی اداروں کی بندش کے انکشاف کے بعد تعلیم سب کیلئے کے دعوؤں کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی ہے،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر محکموں میں جو انقلابی اصلاحات کیں اُن کے ثمرات عوام تک پہنچے اور تاریخ گواہ ہے کہ اے این پی نے ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا ، انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں اور بعد ازاں کپتان نے تعلیم سب کیلئے کا جو نعرہ لگایا وہ ہوا ہو چکا ہے صوبے میں بیشتر تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں اور 4500سے زائد تباہ شدہ سکولوں کی تاحال بحالی نہیں کی جا سکی جبکہ متعدد سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز کی اسامیاں عرصہ دراز سے خالی ہیں تاہم حکمران اس اہم عوامی مسئلے سے غافل ہیں ، انہوں نے کہا کہ اسی طرح صحت کا شعبہ بھی زوال پذیر ہے اور ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکس آئے روز ہڑتالوں پر مجبور ہیں جس کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی حالت زار کا کوئی پُرسان حال نہیں ، ہارون بشیر بلور نے کہا کہ 129سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے جبکہ200پرائمری اساتذہ آج تک بی پی ایس 14میں ترقی کے منتظر ہیں اور 18ماہ گزرنے کے باوجود ڈی پی سی کا اجلاس نہ ہو سکا جو حکومت کی تعلیمی شعبہ میں عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صرف درختوں پر توجہ دینے کی بجائے تعلیم صحت اور دیگر شعبوں کی زبوں حالی پر بھی خصوصی توجہ دے تا کہ عوام کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں ۔