مورخہ 14فروری 2016ء بروز اتوار
خیبر پختونخوا میں بھتہ خوروں کا راج ہے، حکومت کو زبانی جمع خرچ سے نکلنا ہوگا ،ہارون بشیر بلور
بدامنی نے صوبے کی معاشی حالت کمزور کر دی ہے، حکومت کو سنجیدہ اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنا نا ہو گی
عوام کبھی بھی اتنے مایوس نہیں ہو ئے، حکومت کو لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ذمہ داری قبول کرنا ہوگی

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور نے صوبے میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری روک تھام کیلئے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں ہارون بلور نے کہا کہ صوبے بالخصوص پشاور میں بھتہ خوروں کا راج ہے اورحکومت نام کی کوئی چیز نہیں شہریوں کو ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، انہوں نے گزشتہ روزگلبہار میں بھتہ کیلئے تاجر پر قاتلانہ حملے اور اس طرح کے دیگر واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ بھتہ ادا نہ کرنے کی صورت میں بم حملے ، اغواء برائے تاوان ، رہزنی ، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ صوبے میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کے شکار ہیں۔صوبائی ترجمان نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے کیونکہ بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پرصوبائی حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کے معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو بدامنی پرکنٹرول کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اور پالیسی اپنا نا ہو گی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور پر امن ماحول فرہم کرنے کیلئے زبانی جمع خرچ سے نکلنا ہوگا۔