مورخہ 21اپریل2016ء بروز جمعرات
خیبر لیکس کی جوڈیشل انکوائری وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی ہونی چاہئے۔ میاں افتخار حسین
خیبر پختونخوا کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے لیکن اس جانب کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا
صوبائی حکومت اور اس میں شامل اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کو ڈرائی کلین کررہی ہیں، سردار حسین بابک
اے این پی خیبر بنک کو نجکاری کی طرف لے جانے کی مذموم کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیگی
کوئی بھی شخص اور ادارہ آئین و قانون سے بالاترنہیں لہٰذا بلا امتیاز احتساب سب کا ہونا چاہئے، پریس کانفرنس سے خطاب

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی نے ایک بار پھر خیبر بنک سکینڈل کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات میں بنک کے ایم ڈی اور متعلقہ وزیر کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ کو بھی شامل کیا جائے ،اور اگر سکینڈل کی جوڈیشل انکوائری نہ کرائی گئی تو اے این پی صوبہ بھر میں اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گی اور تمام متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائے گی، پشاور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین اورصوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے لیکن اس جانب کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا ، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی جو ڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرنے والے خود کرپشن میں ملوث ہیں اور خیبر بنک کو لوٹنے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی جوڈیشل انکوائری بھی ہونی چاہئے تاہم اے این پی جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کیلئے کسی غیر آئینی و غیر جمہوری فعل کا حصہ نہیں بنے گی ، انہوں نے کہا کہ خیبر لیکس کی تحقیقات کیلئے وزیر اعلیٰ نے جوکیبنٹ کمیٹی بنائی ہے اے این پی اسے مسترد کرتی ہے انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اور اس میں شامل اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کو ڈرائی کلین کررہی ہیں ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں جس جماعت کو کرپشن کے الزام میں حکومت سے نکالا گیا اب اسی جماعت کو خیبر لیکس کی انکوائری کی سربراہی سونپ دی گئی ہے ، انیوں نے کہا کہ کرپشن کرنے والے خودہی وکیل ہیں اور خود ہی منصف کا کردار ادا کر رہے ہیں، ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں کرپشن فری پاکستان مہم شروع کر رکھی ہے لیکن انہیں اپنے وزیر کی کرپشن نظر نہیں آئی ، اور مؤقف یہ اپنایا کہ اگر ہمارے وزیر پر کرپشن ثابت ہوئی تو ہم حکومت سے الگ ہو جائیں گے جو کہ صوبائی حکومت کو ایڈوانس میں دی جانے والی دھمکی ہے،مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پانامہ لیکس پر وزیر اعظم سے اخلاقاً مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والے خود کو اخلاقیات سے مبرا سمجھتے ہیں ، انہوں نے واضح کیا کہ در حقیقت خیبر بنک کو نجکاری کی طرف لے جانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ،جسے اے این پی کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیگی، انہوں نے کہا کہ بنک ایم ڈی نے الزامات اپنے وزیر خزانہ پر تو لگائے لیکن وہ کسی اور کی زبان بول رہا ہے اور لگتا ہے کہ وہ حکومت کو اس الزام سے بچانے کیلئے سرگرم ہے، میاں افتخار حسین نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں خیبر بنک کی ڈوبتی کشتی کو بچایا اور اس میں 5ارب روپے ڈال کر اسے سرکاری سرپرستی دی جبکہ خیبر بنک کی برانچوں میں اضافہ کر کے ان کی تعداد 34سے بڑھا کر 82کر دی گئیں اور اس کا دائرہ پنجاب تک پھیلایا گیا، انہوں نے کہا کہ خیبر بنک کو صوبے کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ بنانے کا سہرا اے این پی کے سر ہے ، تاہم موجودہ حکومت نے صوبے کے وسائل اور اثاثے اونے پونے داموں اپنے چہیتوں میں بانٹنا شروع کر دیئے ہیں جس کے خلاف ہم کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ خیبر بنک ہمارے صوبے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جیسا ملک کیلئے سٹیٹ بنک کی اہمیت ہے خیبر پختونخوا کیلئے خیبر بنک ہی سٹیٹ بنک ہے اور اسے لوٹنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے فوج میں کئے جانے والے احتسابی عمل کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی شخص اور ادارہ آئین و قانون سے بالاترنہیں لہٰذا بلا امتیاز احتساب سب کا ہونا چاہئے اور جو بھی کرپشن میں ملوث ہو اس کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر سید عاقل شاہ سمیت سیکرٹری اطلاعات ہارون بشیر بلور اور دیگر مرکزی و صوبائی رہنما بھی موجود تھے۔