مورخہ 19اپریل2016ء بروز منگل

خیبر لیکس پر جماعت اسلامی کو صوبائی حکومت سے الگ ہو جا نا چاہئے، حاجی محمد عدیل
چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنا کر تحقیقات کرائی جائیں،
جس بات کا مطالبہ سراج الحق وزیر اعظم سے کر رہے ہیں اسی پر صوبے میں خود بھی عمل کریں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خزانہ حاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ خیبر لیکس پر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن بنا کر تحقیقات کرائی جائیں اور انکوائری مکمل ہونے تک جماعت اسلامی کو تمام صوبائی وزارتوں سے الگ ہو جانا چاہئے، اپنے ایک بیان میں حاجی محمد عدیل نے مزید کہا کہ کابینہ کی کمیٹی بنا کر تحقیقات کرانا غیر منصفانہ ہے، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس پر سراج الحق بار ہا وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن خیبر بنک سکینڈل میں ان کے اپنے وزیر پر کرپشن کے الزام ہیں لہٰذا اب جماعت اسلامی کو حکومت سے الگ ہو جانا چاہئے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کمیشن بنا کر اس سکینڈل کی تحقیقات کرائی جائیں ،تا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے فضا سازگار ہو سکے انہوں نے کہا کہ اصولی بات تو یہ ہے کہ جس بات کا مطالبہ سراج الحق وزیر اعظم سے کر رہے ہیں اسی پر صوبے میں خود بھی عمل کریں ، انہوں نے کہا خیبر بنک سکینڈل پر کابینہ کمیٹی کی تشکیل کسی صورت قبول نہیں اور اس کی طرف سے کیا جانے والا فیصلہ غیر منصفانہ ہوگا کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ کیبنٹ اپنے وزیروں کو بچانے اور انہیں ڈرائی کلین کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ خیبر بنک صوبے کا ایک مفید مالیاتی ادارہ ہے جسے اے این پی نے قائم کیا اور اپنے سابق دور حکومت میں اے این پی نے اسے خودمختاری بھی دی تاہم صوبائی حکومت نے اس بنک کو بھی دیگر تمام سرکاری محکموں کی طرح تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اے این پی ایسی کسی بھی سازش کے خلاف بھرپور مز ا حمت کرے گی۔