مورخہ 17اپریل2016ء بروز اتوار

خیبر لیکس میں صوبائی حکومت ملوث ہے ، جوڈیشل انکوائری کرائی جائے ، میاں افتخار حسین
پی ٹی آئی اور مسلم لیگ کے بڑے برج ابھی پا نامہ لیکس میں سامنے آئیں گے ،ملوث افراد کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جانی چاہئے
ملک کی موجودہ صورتحال کے تناطر میں مسلم لیگ ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقاتیں متوقع ہیں
عوام اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے پی کے 8کے ضمنی الیکشن میں لالٹین پر مہر لگائیں ، پجگی میں انتخابی جلسہ سے خطاب

پشاور (پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہمارے لئے خیبر لیکس پانامہ لیکس سے بڑا سکینڈل ہے اور اب اس کیس میں حکومت اور خیبر بنک دونوں کے خلاف جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی کے 8ضمنی الیکشن کے سلسلے میں یو سی پجگی میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے کہا کہ خیبر بنک نے اپنے ہی وزیر خزانہ کے خلاف چارج شیٹ لگائی اور اسے برملا مشتہر کیا تاہم یہ کرپشن کہانی صرف ایک وزیر کی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ہے اور اس میں پوری حکومت ہی ملوث ہے ،اس لئے حکومت اب اپنے طور انکوائری کا اختیار کھو چکی ہے ،انہوں نے کہا کہ اس کیس کی جو ڈیشل انکوائری کرائی جائے کیونکہ یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی مثال ہے اس لئے اسے منصف کا کردار کسی صورت ادا نہیں کرنے دینگے ، میاں افتخار حسین نے کہا کہ بنک انتظامیہ نے کرپشن الزامات میں حکومت کو بری الذمہ قرار دیا لگتا ہے کہ وہ صرف وزیر کو پھنسا کر حکومت کو بچانا چاہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ یہ بد نیتی پر مبنی ہے لہٰذا بنک انتظامیہ اور صوبائی حکومت دونوں کے خلاف جوڈیشل انکوائری ہونی چاہئے ۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے قومی وطن پارٹی پر کرپشن کے الزامات لگا کر اسے حکومت سے الگ کیا پھر اسے ڈرائی کلین کر کے حکومت میں شامل کر لیا ، پھر اپنے ہی وزیروں پر کرپشن کے الزام میں پابند سلال کرایا اور اب جماعت اسلامی کو بھی اس لائن میں کھڑا کر دیا ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں سب نا اہل ہیں لیکن عمران خان نے اربوں روپے کی بے ضابطگیوں پر آنکھیں موند رکھی ہیں ، انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ عمران خان اتنی بڑی کرپشن کے باوجود اپنی حکومت کو ملک کی مثالی حکومت قرار دے رہے ہیں جو قوم کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے،
پانامہ لیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ابھی تفصیلات آنا باقی ہیں اور اس میں پی ٹی آئی کے بڑے برج بھی سامنے آ سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ نواز شریف نے آف شور کمپنیاں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے خریدیں لیکن بقول مسلم لیگ کپتان نے بھی زکوۃ اور خیرات کے پیسوں سے آف شور کمپنیاں بنائیں یعنی انہوں نے زکوۃ اور خیرات کے پیسوں میں چوری کی ہے ، انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے حوالے سے چیف جسٹس کی سربراہی میں جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور مر کزی و خیبر پختونخوا حکومتوں سمیت جو بھی اس میں ملوث ہیں ان کے خلاف بلا امتیاز کا روائی کی جانی چاہئے ،
میاں افتخار حسین نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے تناطر میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اے این پی سے رابطہ کیا ہے جن میں سے مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے ساتھ کل ملاقات کا امکان ہے جبکہ اگلے روز پیپلز پارٹی کے ساتھ ملاقات متوقع ہے ۔
پی کے 8کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے میں آئندہ ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ اور اس کے اتحادی جبکہ پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کرالیکشن میں حصہ لے رہی ہے لیکن اے این پی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے اکیلی میدان میں کھڑی ہے ، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ مرکزی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی سے نالاں ہیں تو پی کے 8کے ضمنی الیکشن میں باچا خان بابا کے پیروکار اعجاز سیماب کو ووٹ دے کر کا میاب کرائیں اور لالٹین پر اپنی مہر ثبت کر کے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لیں ، اس موقع پر صوبائی سیکرٹری مالیات خوشدل خان ایڈوکیٹ ، ملک نسیم خان ، اعجاز سیماب اور یو سی صدر امتیاز نے بھی خطاب کیا ۔