مورخہ 27اپریل2016ء بروز بدھ

خیبر بنک سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے ، سردار حسین بابک
حقائق اوجھل رکھ کر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا گیا ہے،صوبائی حکومت خیبر بنک کو فروخت کرنے پر تلی ہوئی ہے
قومی پاکستانی اخبارات کو ذاتی ملکیت میں دینے والوں کے چہرے بے نقاب ہونے چاہئیں
ملک کے تمام احتسابی ادارے احتساب کے عمل میں تیزی لانے کیلئے ملنے والی معلومات سے فائدہ اٹھائیں
ملک اور قوم کا پیسہ لوٹنے والوں اور سرکاری املاک اپنے اور رشتہ داروں کے نام کرنے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہئے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پالیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ خیبر بنک کی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانا اور عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا حکومتی ذمہ داری ہے تاہم حکومت نے حقائق کو اوجھل رکھ کر غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک تو وزراء پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل مضحکہ خیز ہے اور دوسری اس رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانا کسی طور مناسب اقدام نہیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے تین روز کے اندر کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی تھی ، سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے دیگر قومی اثاثوں کی طرح خیبر بنک کو فروخت کرنے پر تلی ہوئی ہے،انہوں نے متنبہ کیا کہ خیبر بنک کو پی ٹی آئی کے ایک مرکز لیڈر کے بھائی کے ہاتھ فروخت نہیں کرنے دیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ دوسروں پر الزام تراشیاں اور پگڑیاں اچھالنا حکمرانوں کا شیوہ بن گیا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام بنکوں سے کھربوں روپے کے قرضے معاف کرانے والوں، لاکھوں ایکڑ اراضی اور پلاٹ اپنے نام کرانے اور قومی پاکستانی اخبارات کو ذاتی ملکیت میں دینے والوں کے ساتھ ساتھ جہاد کلچر میں کروڑوں ڈالر کمانے والے چہرے بے نقاب ہونے چاہئیں، صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ ملک کے تمام احتسابی ادارے احتساب کے عمل میں تیزی لانے کیلئے ملنے والیمعلومات سے فائدہ اٹھائیں تا کہ ملک کو اس ناسور سے نجات مل سکے،انہوں نے کہا کہ بنکوں سے زرعی اور کمرشل قرضے معاف کرانے والے عوام کا اربوں روپے کا قرضہ واپس کر دیں۔انہوں نے کہا کہ ملک اور قوم کا پیسہ لوٹنے والوں اور سرکاری املاک اپنے اور رشتہ داروں کے نام کرنے والوں کا کڑا احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ملک و قوم کی دولت بے دردی اور بے رحمانہ طریقے سے لوٹنے والے آج سب سے زیادہ چلا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل ضیاء الحق دور سے کیا جانا چاہئے جبکہ مشرف دور میں ہونے والی کرپشن اور لوٹ مار کرنے والوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے۔