مورخہ 17مئی2016ء بروز منگل

خوشدل خان ایڈوکیٹ پر حملے کے ملزمان جلد گرفتار کئے جائیں، امیر حیدر خان ہوتی
حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں جبکہ شہریوں کی جان و مال داؤ پر لگے ہوئے ہیں،بھتہ خور آزادی سے کاروائیاں کر رہے ہیں
اے این پی کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے لیکن اب ہم اس کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے، عوام عدم تحفظ کے شکار ہیں
دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کی معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے، اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی، سردار بابک
پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے اے این پی کے سیکرٹری مالیات اور سابق ڈپٹی سپیکر خوشدل خان ایڈوکیٹ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ بھتہ خور شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں لیکن حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں جبکہ شہریوں کی جان و مال داؤ پر لگے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کی وجہ سے عوام اب پی ٹی آئی سے نالاں ہیں جبکہ صوبے کی صورتحال بھی بگڑتی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور عوام کو بیروزگاری اور دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ اے این پی کو مسلسل ٹارگٹ کیا جا رہا ہے جس کے خلاف اب ہم خاموش نہیں رہیں گے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ خوشدل خان ایڈوکیٹ پر حملے کے ملزم اگر گرفتار نہ ہوئے تو جلد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ،جس سے صوبائی حکومت کیلئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں، انہوں نے کہا کہ صوبے بالخصوص پشاور میں بھتہ خوروں کا راج ہے اورحکومت نام کی کوئی چیز نہیں شہریوں کو ٹارگٹ کلرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں جبکہ شہریوں کی جان و مال داؤ پر لگے ہوئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بم حملے ، اغواء برائے تاوان ، رہزنی ، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔صوبائی صدر نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی سے صوبے کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ صوبے میں خوف و ہراس پھیلتا جا رہا ہے اور عوام عدم تحفظ کے شکار ہیں۔سردار حسین بابک نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے کیونکہ بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اُنہوں نے صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدامنی اور عدم تحفظ کے ماحول پرصوبائی حکومت تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ دہشتگردی اور بدامنی نے صوبے کی معاشی حالت کو کمزور بنا دیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو بدامنی پرکنٹرول کرنے کیلئے فوری اور عملی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اور پالیسی اپنا نا ہو گی۔