مورخہ : 27.2.2016 بروز ہفتہ

حکومت کی منفی پالیسیوں کے باعث مقامی صنعتیں اور کاروباری سرگرمیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ سردار حسین بابک
صوبے کو پہلے ہی معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔ صنعت کار ، تاجر اور عوام بدترین عدم تحفظ سے دوچار ہیں۔
سو سے زائد پرنٹنگ یونٹس کی بندش سے ہزاروں بے روزگار ہوئے جبکہ درسی کتب کی چھپائی ، فراہمی متاثر ہوگی۔

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی منفی پالیسیوں کے باعث مقامی صنعتیں اور کاروباری سرگرمیاں تباہ ہو رہی ہیں اور اسی رویے کا نتیجہ ہے کہ مختلف حلقے اور طبقے حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ پشاور میں فرنٹیئر پرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کے احتجاجی کیمپ اور بعد ازاں ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ موجودہ حکومت صوبے کے مسائل اور معاشی سرگرمیوں کا احساس کرتے ہوئے چھوٹی بڑی صنعتوں کی ترقی اور بحالی کے علاوہ متعلقہ لوگوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے دیتی ۔تاہم صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے اور حکمرانوں کو معاملات کی سنگینی کا سرے سے احساس ہی نہیں ہے۔ حالانکہ صوبے کو پہلے ہی سے معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ 100 سے زائد پرنٹنگ انڈسٹریل یونٹس بند کیے گئے جس کے باعث ہزاروں افراد بیروز گار ہوئے، درسی کتب کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ چھپائی کا کام متاثر ہوا اور درسی کتب کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ان یونٹس کی بندش اور غیر مقامی صنعتوں کی سرپرستی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مقامی صنعتوں اور کاروباری حلقوں کو ترجیحی بنیادوں پر تحفظ دیا جائے۔
سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ ایک طرف صوبے کے عوام اور تاجروں کو امن و امان کی بدترین صورتحال اور عدم تحفظ کا سامنا ہے تو دوسری طرف حکومت ان سے ان کا روزگار اور کاروبار چھیننے پر تلی ہوئی ہے۔ اگر حکومت نے اپنے رویوں پر نظر ثانی نہیں کی اور صوبے کے مخصوص حالات کے تناظر میں مختلف حلقوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا تو عوام کیساتھ مشترکہ جدوجہد اور احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔