مورخہ 3فروری 2016ء بروز بدھ
حکومت کی سیاسی ناتجربہ کاری سے ترقیاتی بجٹ ضائع ہونا کا خدشہ ہے۔ سردار حسین بابک
تین بجٹ لیپس ہو چکے ہیں ، چوتھا بھی ضائع ہونے کے قریب ہے جو عوام کے ساتھ معاشی دشمنی کے مترادف ہے
* ترقیاتی فنڈز کو بروقت اور شفاف طریقے سے خرچ کرنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے
صوبائی محکموں کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے خیبر پختونخوا کا ترقیاتی بجٹ ضائع ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سیاسی ناتجربہ کاروں کا ٹولہ ہے اور انہیں صوبے کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 175ارب روپے سے زائد کی رقم ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کی گئی تاہم 7ماہ گزرنے کے باوجود اب تک صرف 31 ارب روپے اس مد میں خرچ کئے جا سکے جو صوبے کی تاریخ کی بدترین مثال ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سے پہلے ہی تین بجٹ لیپس ہو چکے ہیں ،اور اب چوتھا بجٹ بھی ضائع ہونے کے قریب ہے جو صوبے کے عوام کے ساتھ دشمنی کے مترادف ہے ، انہوں نے کہا کہ صوبائی محکموں کی جانب سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت معلومات کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے مسائل حل کرنے میں کوئی بھی سنجیدہ نہیں ،انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صوبائی حکومت کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی پسماندگی ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں جبکہ عمران خان خود اس بات کا اعتراف کئی بار کر چکے ہیں کہ اڑھائی سال ہم نے منصوبہ بندی میں گزار دیئے ہیں اور تبدیلی کا آغاز اب ہو گا تاہم خیبر پختونخوا کے عوام اُس تبدیلی کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں،سردار حسین بابک نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ غربت کے خاتمے کیلئے مختص 8ارب روپے سے زائد میں سے اب تک صرف 807ملین روپے خرچ کئے گئے اور اس کے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے ، جبکہ توانائی اور تعلیم کیلئے مختص بجٹ بھی خرچ نہیں کئے جا سکے جس کی وجہ سے صوبہ رو بہ زوال ہے ،انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز کو بروقت اور شفاف طریقے سے خرچ کرنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے اور صوبے کی ترقی کیلئے سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے جائیں،