مورخہ : 27.2.2016 بروز ہفتہ

حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبے کے حق پر سودے بازی کی ہے۔ میاں افتخار حسین
سولو فلائٹ کی عادی صوبائی حکومت نے خالص منافع کے معاملے پر صوبے کے مفادات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
صوبے کے عوام حکومتی مصلحت اور حقوق پر حکومت کو ڈاکہ ڈالنے کی کسی صورت اجازت نہیں دینگے۔
چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے مغربی روٹ پر اجلاس میں سرے سے بات ہی نہیں ہوئی۔ اجلاس میں روٹ کو آئینی تحفظ دینا چاہیے تھا۔

پشاور ( پریس ریلیز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے صوبائی حکومت کے بجلی کے منافع کے معاملے پر 70 ارب روپے پر مرکزی حکومت کیساتھ سمجھوتے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے صوبے کے آئینی حق اور حصے کی بجائے عملی طور پر صوبائی حکومت کو لالی پاپ دے کرزیادتی کی ہے جبکہ صوبائی حکمران خوشیاں مناکراپنی ذمہ داریوں سے غافل اور صوبائی حقوق سے بے خبررہ کر صوبے کے حقوق پر مصلحت کا شکار ہو گئے ہیں۔ایک بیان میں اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ اور صوبائی حقوق اور حصے سے بے خبر حکومت کو عوام معاف نہیں کرینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور ان کے اتحادی قوم کو وضاحت کریں کہ وہ کس فارمولے کے تحت 385 ارب کے بجائے 70 ارب پر راضی ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جی ایف قاضی فارمولے کے تحت اپنے حقوق اور حصے سے دستبردار ہونا صوبے کے عوام برداشت نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام صوبائی حکومت کی اس غیر ذمہ داری اور مصلحت کو صوبے کی تباہی سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت صوبے کے مسائل اور حقوق پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے معاملات اُٹھانے کی توفیق کرتی تو آج صوبے کو اپنے حصے آئینی حصے سے محروم نہ ہونا پڑتا۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ چائنا پاک اکنامک کاریڈور کے مجوزہ مغربی روٹ کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اٹھانا چاہیے تھا تاکہ صورتحال واضح ہوجاتی اور اس روٹ کو آئینی تحفظ بھی مل جاتا تاہم حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس اہم ایشو پر بھی مصلحت اور خاموشی سے کام لیکر یہ اہم موقع بھی ضائع کر دیا۔