مورخہ : 12.3.2016 بروز ہفتہ

حکومت نوشہرہ اور دیگر علاقوں کو سیلاب کے متوقع نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرے۔ میاں افتخار حسین
پیشگی اور مسلسل خطرے کے باوجود حکومت کی کارکردگی محض اخباری بیانات اور اطلاعات تک محدود ہیں۔
ان متاثرہ علاقوں کو بچانے کیلئے بھی عملی اقدامات نہیں کیے گئے جو کہ وزیر اعلیٰ کے حلقوں یا علاقے میں واقع ہیں۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ہر سال وادی پشاور بالخصوص نوشہرہ میں سیلاب کا آنا معمول بن چکا ہے تاہم موجودہ حکومت نوشہرہ کی حفاظت کیلئے کوئی منصوبہ مکمل نہ کر سکی کہ وزیر اعلیٰ کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور ان کو سیلاب کی تباہ کاریوں کاذاتی تجربہ اور اندازہ ہے۔
اے این پی سیکرٹریٹ سے جاریکردہ بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے اب کی بار بھی پیشگی اطلاعات کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کیے اور حکومتی کارکردگی صرف تنبیہہ اور اخباری بیانات تک محدود ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دریائے کابل کی سطح تیزی سے بلند ہور ہی ہے اور عوام سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں سے اکثر وزیر اعلیٰ کے حلقوں میں واقع ہیں۔ بعض حفاظتی پشتوں پر کام ہوا ہے مگر وہ یاتو نامکمل ہیں یا ان کی پلاننگ غلط ہے اور یہ فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بنتے آ رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تکنیکی ضروریات یا مہارت کی ضرورت کا ادراک نہیں ہوتا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یا تو منصوبے شروع نہیں ہوتے یا درمیان میں رہ جاتے ہیں یا فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بن جاتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ بجٹ لیپس ہوتا آرہا ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر اب کی بار پیشگی اطلاعات کے باوجود نوشہرہ یا دیگر علاقوں کو سیلاب سے کوئی نقصان پہنچ گیا تو یہ حکومت کی غفلت کہلائی جائیگی اور نقصانات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت مزید تاخیر کی بجائے ایمر جنسی میں ٹیمیں بھیج کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں اور اپنی ذمہ داریوں کا داراک کرے۔