مورخہ : 26.4.2016 بروز منگل

حکومت صوبے کے وسائل سے اپنی پارٹی کے سرمایہ کاروں اور معاونین کو نواز رہی ہے۔ سردار حسین بابک
عمران خان صوبہ خیبر پختونخوا کے وسائل پر وزارت عظمیٰ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
ایس ڈی اے کو ختم کرنے کا مقصد پی ٹی آئی کے معاونین کیلئے سرمایہ کاری کا راستہ ہموار کرنا ہے۔
ایک منظم منصوبے کے تحت صوبے اور پشتونوں کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے ایس ڈی اے کو ختم کرنے اکنامکس ڈیویلپمنٹ زون کے نام سے کمپنی بنا کر حسب روایت پارٹی کے دیرینہ سرمایہ کاروں کے ہاتھوں اس ادارے کے کھربوں روپیہ کے اثاثہ جات اپنے پیاروں کے ہاتھوں دینے کیلئے راہ ہموار کردی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ جب سے صوبائی حکومت بنی ہے ورکنگ گروپس کے نام پر صوبے کے قیمتی اثاثہ جات پارٹی کے مالی معاونین جن کا تعلق لاہور ، اسلام آباد ، کراچی اور بیرونی دُنیا سے ہے، کو اونے پونے بیچنے جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے تعجب کا اظہار کیا ہے کہ اس نئی کمپنی کے بورڈ ممبران میں اکثریت ان کے معتمد خاص ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ تمام تر کوشش ایس ڈی اے کے اثاثہ جات ، اراضیات ، انڈسٹریل زونز اور کھربوں روپیہ مالیت کے صنعتی پارٹس قبضہ میں کرنے کے درپے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ 1860 ایکٹ کے تحت بننے والی یہ کمپنی صنعتی وسائل پر قبضہ اور بجٹ میں چار ارب روپیہ مختص کرنا حکومتی کوششوں کو ثابت کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی پارٹی کے مالی معاونین کو راستہ فراہم کرے۔ ٹیکس چوروں اور ایس ڈی اے کے پہلے نادہندگان کو مراعات فراہم کرنا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتی نت نئے تجربات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایک منظم کوشش اور سازش کے ذریعے پنجاب کے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرکے اپنے صوبے کو مزید مالی بحران سے دوچار کر سکیں۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر ایسے قوانین اور موجودہ قوانین میں ترامیم لا کر تحریک انصاف کے مالی معاونین کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان صوبہ خیبر پختونخوا کے وسائل کی قیمت پر وزارت عظمیٰ تک پہنچنا چاہے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا باہر سے کنسلٹنٹ لانا، صوبے کے پرنٹنگ پریسز کو بند کرنا ، صوبے کے اپنے افسران کو دیوار سے لگانا ، خیبر بنک جیسے قیمتی اثاثے کو نجکاری کیطرف لے جانا، یہ تمام ایسے اقدامات ہیں کہ پختونوں کے وسائل کو بڑی بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔