مورخہ 24مارچ 2016ء بروز جمعرات
حکومت جنگلات سے متعلق پالیسی بناتے وقت زمینی حقائق کو مد نظر رکھے، سردار حسین بابک
جنگلات والے علاقوں میں بسنے والی تمام پسماندہ اقوام کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے
علاقے کی پسماندگی دور کرنے کی غرض سے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرنا ہو نگے،
ٹمبر مافیا کے ہاتھوں جنگلات کے مستقبل کودرپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے سخت قوانین وضع کئے جائیں
حکومت کی جانب سے وصول کیا جانے والا 20فیصد علاقے میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جانا چاہئے، مظاہرے سے خطاب

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں یکساں فارسٹ رائلٹی 80فیصد کی شرح کے حساب سے وضع کی جائے اور جنگلات مالکان کے جملہ حقوق کو قانونیبنیادوں پر تسلیم کیا جائے ، پشاور میں ملاکنڈ ڈویژن کے جنگلات مالکان کے احتجای مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت جنگلات سے متعلق پالیسی بناتے وقت زمینی حقائق کو مد نظر رکھے اور تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے جنگلات مالکان سے مشاورت کرے اور انہیں نمائندگی دی جائے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وصول کیا جانے والا 20فیصد علاقے میں ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جانا چاہئے تاکہ علاقے کی پسماندگی دور ہو سکے اور عوام کو بنیادی ضروریات زندگی میسر آ سکیں ، سردار حسین بابک نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں جنگلات سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کیا اور جنگلات کے تحفظ کیلئے جو اقدامات کئے اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پانچ سال تک جنگلات مالکان اپنے مطالبات کیلئے کبھی سڑکوں پر نہیں آئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنگلات والے علاقوں میں بسنے والی تمام پسماندہ اقوام اور علاقوں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے ، انہوں نے کہا کہ ٹمبر مافیا کی وجہ سے جنگلات کو سنگین خطرات درپیش ہیں تاہم اس مافیا کے خلاف سخت قوانین وضع کرنا حکومتی ذمہ داری ہے ،صوبائی جنرل سیکرٹری نے کہا کہ جنگلات کی پیداوار والے علاقوں کی ترقی اور وہاں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ، انہوں نے آخر میں مظاہرین کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔