مورخہ 2 اپریل 2016ء بروز ہفتہ

حکومت بر طرف اساتذہ کو بحال نہ کر کے توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے، سردار حسین بابک
برطرف اساتذہ کی بحالی کیلئے باقاعدہ قانون سازی کے تحت اے این پی کے دور میں 30فیصد حصہ مقرر کر دیا گیا
حکومت صوبائی اسمبلی کی قانون سازی اور عدالتی فیصلہ سے انکاری ہو کر ’’میں نہ مانوں‘‘ والی پالیسی پر عمل پیرا ہے
* برائے نام تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کر کے سرکاری ملازمین کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت 1997کے برطرف اساتذہ کی بحالی میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ برطرف اساتذہ کی بحالی کیلئے باقاعدہ قانون سازی کے تحت اے این پی کے دور حکومت میں صوبے کے تمام اضلاع میں اساتذہ کی بھرتی میں 30فیصد حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اور ان کی بحالی کا عمل اے این پی کے دور میں شروع ہو چکا تھا ،تاہم بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے آتے ہی برائے نام تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کر کے سرکاری ملازمین کے حقوق سلب کرنا شروع کر دیئے ہیں ، انہوں نے کہا کہ قانون سازی کے مطابق برطرف اساتذہ کی بحالی کا عمل شروع کر کے ان کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے اس مسئلے پر عدم توجہی کی وجہ سے برطرف اساتذہ نے انصاف کیلئے عدالتوں کا رخ کر لیا جبکہ عدالتی فیصلہ بھی ان کے حق میں آ چکا ہے ، لیکن بدقسمتی سے حکومت صوبائی اسمبلی کی قانون سازی اور عدالتی فیصلہ سے انکاری ہو کر ’’میں نہ مانوں‘‘ والی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی دور حکومت میں اساتذہ کو معاشرے میں تکریم بخشی گئی اور تاریخی و انقلابی اصلاحات کے ذریعے نظام تعلیم عصر حاضر کے تقاضوں اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کئے ،لیکن تبدیلی سرکار جھوٹے وعدوں اور دعوؤں کے بل بوتے پر عوام کو بے وقوف اور مفاد عامہ کے تضاد میں تصوراتی ایجنڈے اور ون مین شو جیسے کھیل میں مصروف ہے۔