مورخہ 17مئی2016ء بروز منگل

حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اسمبلی اور صوبے کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ سردار حسین بابک
حکومت بنک آف خیبر کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر سے کام لے رہی ہے۔
سات سو افسران احتجاج اور بائیکاٹ پر ہیں مگر حکومت کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔
ضیاء اللہ آفریدی کو اسمبلی میں لایا جائے ۔ صوبائی اسمبلی میں خطاب

پشاور( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے بنک آف خیبر کی مجوزہ رپورٹ اسمبلی میں پیش نہ کرنے کے حکومتی رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ بنک آف خیبر کو نہ تو حکمرانوں کے ہاتھوں بکنے دیں گے اور نہ ہی اس کو تباہ ہونے دیا جائیگا۔
منگل کے روز صوبہ پختونخوا اسمبلی میں وزراء اور حکومتی ارکان کی غیر حاضری پر اپنے خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بنک آف خیبر کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں تاکہ ذمہ داران کے بارے میں اسمبلی اور عوام آگاہ ہو سکے اور بنک کی تباہی کی ذمہ داران کا محاسبہ کیا جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ رپورٹ میں تاخیر نے بہت سے سوالات کو جنم دے رکھا ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اسمبلی اور صوبے کو مذاق بنایا ہوا ہے ۔ احتساب ایکٹ کے ذریعے مخالفین کو دبانے اور اپنے کرپٹ لوگوں کو بچانے کا رویہ ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور اپوزیشن ان معاملات پر خاموش نہیں رہے گی۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پر وزیر ضیاء اللہ آفریدی کو اسمبلی رولز کے مطابق اجلاس میں لایا جائے تاکہ وہ اپنے کیس اور احتساب کے بارے میں وضاحت کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے 700 سے زائد پی ایم ایس افسران احتجاج اور بائیکاٹ پر ہیں تاہم حکومت کو کسی بات کا کوئی احساس نہیں ہے۔
اُنہوں نے مرحوم ایم پی اے سورن سنگھ کے ورثاء کو مالی پیکج دینے میں تاخیر پر اعتراض کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیکج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس پر آسمان سر پر اُٹھانے والوں کے ایک وزیر کے والد کا نام فہرست میں شائع ہو گیا ہے وہ اسمبلی میں آکر وضاحت کریں کہ ان کی کیا پوزیشن ہے اور ان کی پارٹی اور حکومت کا موقف کیا ہے۔