مورخہ : 6.2.2016 بروز ہفتہ

حکومت اصلاحات کے نام پر محکمہ صحت کا بیٹر ہ غرق کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایمل ولی خان
ہسپتال دوائیوں اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مریض ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
حکومت ڈاکٹروں ، سٹاف کو دھمکیاں دینے کی بجائے ان کے ساتھ بیٹھ کر مسائل حل کرے۔

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور پختون ایس ایف کے ایڈوائزر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت محکمہ صحت کے اہلکاروں کو ہراساں کرنے کی بجائے محکمہ صحت کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کیساتھ فیصلے کریں اور صوبائی حکومت پہلے ہیلتھ پالیسی کا اعلان کریں تاکہ محکمے میں اصلاحات ممکن ہو سکیں۔ اپنے ایک بیان میں اُنہوں نے کہا ہے کہ صوبے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں دوائی نام کی کوئی چیز میسر نہیں ہے اور غریب مریض در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے بجائے ان کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں کیونکہ اس تمام صورتحال کا نقصان غریب مریض اُٹھا رہے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے محکمہ صحت میں اصلاحات کے نام پر محکمے کے لوگوں کو ہراساں اور اُن پر جبراً اپنے فیصلے مسلط کرنے کے منفی نتائج نکلیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے نامناسب روئیے سے ڈاکٹرز کمیونٹی اور محکمہ صحت کے اہلکار سراپا احتجاج ہیں جو کہ حکومت کے ناکام اور غیر مقبول فیصلوں اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کی جانب سے محکمہ صحت جیسے رفاہ عامہ کے ادارے کو این جی اوز کے حوالے کرنے جیسے اقدامات کسی طور پر قابل قبول نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے میں صوبائی حکومت کے آتے ہی محکمہ صحت کا اصلاحات کے نام پر بیڑہ غرق کر دیا ہے اور لوگ سرکاری ہسپتالوں میں دوائیوں ، ایکسرے اور دوسرے جیسے ضروریات کیلئے جیب سے ادائیگیاں کر کے پرائیویٹ اداروں سے ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔