2016 حکمران مصلحت کا شکار ہیں، سیکورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، سردار حسین بابک

حکمران مصلحت کا شکار ہیں، سیکورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، سردار حسین بابک

حکمران مصلحت کا شکار ہیں، سیکورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، سردار حسین بابک

مورخہ 27جنوری 2016ء بروز بدھ
حکمران مصلحت کا شکار ہیں، سیکورٹی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، سردار حسین بابک
رواں مالی سال کے دوران سیکورٹی کی مد میں رقم خرچ نہیں کی گئی جو حکومت کی غیر ذمہ داری اور غفلت کا ثبوت ہے
اے این پی دور میں شروع کیا جانے والاسیف سٹی منصوبہ تین سال گزرنے کے بعد بھی جوں کا توں ہے ،
امن کی خاطر اے این پی اور عوام کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں تاہم حکومت کی غفلت اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے

پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے صوبائی حکومت کی جانب سے سیکورٹی کیلئے مختص رقم خرچ کرنے میں سست روی پر افسوس اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکمران مصلحت کا شکار ہیں اور دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعات کے باوجود سیکورٹی پر کوئی خصو صی توجہ نہیں دی جارہی ،اے این پی سیکرٹریٹ سے جاری ایک بیان میں سردار حسین بابک نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران محکمہ داخلہ کے مختلف منصوبوں کیلئے 6کروڑ 37لاکھ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی تاہم اس میں سے صرف چند لاکھ روپے اب تک خرچ کئے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں میں سے درجنوں ایسے بھی ہیں جن کیلئے آج تک ایک روپیہ خرچ نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف اور عوام کی جان و مال کے تحفظ میں کسی طور سنجیدہ نہیں ہے ، صوبائی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ ڈیرہ ، پشاور جیل کی تعمیر نو اور صوبے کی سات بڑی جیلوں میں ہائی سیکورٹی زون کی تعمیر کیلئے ایک پیسہ تک خر چ نہیں کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں یہاں تک کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے الرٹ جاری ہونے کے باوجود اس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی جس کے باعث سینکڑوں جانیں اب تک ضائع ہو چکی ہیں لیکن حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں پشاور کو محفوظ بنانے کیلئے سیف سٹی منصوبہ شروع کیا اور اس کیلئے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے تاہم موجودہ حکومت نے اس منصوبے کو پس پشت ڈال دیا اور دو کروڑ روپے منصوبے پر خرچ ہونے کے بعد 18کروڑ روپے تاحال پڑے ہیں جو خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال سے زیادہ قیمتی نہیں ہیں ،سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبے میں سیکورٹی فورسز اور عوام کے گرتے ہوئے مورال کی بڑی وجہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے دہشت گردوں کو اپنی مذموم کاروائیوں کیلئے کھلامیدان میسر ہے اور وہ جب بھی جہاں بھی چاہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کی خاطر اے این پی اور صوبے کے عوام نے جتنی قربانیاں دیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں تاہم صوبائی حکومت کی غفلت اب ناقابل برداشت ہوچکی ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے حکومت کو ٹھوس سنجیدہ اور ذمہ دارانہ پالیسی اپنانا ہو گی۔

شیئر کریں