مورخہ 21فروری 2016ء بروز اتوار
حکمران اس رویئے پر عمل پیرا ہیں جو بنگالیوں سے روا رکھا گیاتھا، میاں افتخار حسین
اگر بنگالی زبان اور بنگالیوں کو ان کا جائز حق دیا جاتا تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتا اور قومیتوں کے مسائل میں اضافہ نہ ہوتا
پشتون قوم چالیس برسوں سے ایک ایسی جنگ کا شکار ہے جس سے ان کا بحیثیت قوم کوئی تعلق اور واسطہ نہیں رہا،
موجودہ حکومت نے مادری زبانوں سے متعلق ہمارے اقدامات کو سازش کے تحت سبو تاژ کیا ۔
* قبائل کو صوبے کا حصہ بنایا جائے اور داعش کے خطرے سے نمٹنے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے گریز کیا جائے ، مادری زبانوں کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پشتون قوم گزشتہ تیس چالیس برسوں سے مسلسل حالت جنگ میں ہے اور اس جنگ نے قوم کی سیاست معاشرت ، معیشت اور ثقافت کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی اور محسوس یہ ہو رہا ہے کہ اب داعش کی شکل میں ایک نیا خطرہ ہم پر مسلط ہونے والا ہے۔
باچا خان مرکز میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسروں کے نظریات اور مفادات کی جنگیں ہماری سر زمین پر لڑی گئیں حالانکہ پشتونوں کا بحیثیت قوم کبھی بھی تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا ، انہوں نے کہا کہ اے این پی اور اس کے اکابرین کئی دہائیوں سے کہتے آ رہے ہیں کہ عالمی مفادات کی جنگ میں کودنے سے گریز کیا جائے اور آزاد خارجہ پالیسی اپنائی جائے مگر ایسا نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم تیس چالیس برسوں سے مختلف انتہا پسند گروپوں اور ان کی کاروائیوں کے نتائج بھگت رہے ہیں اور آج بھی ہم حالت جنگ میں ہیں ، انہوں نے داعش کی موجودگی سے انکار کے حکومتی رویئے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل ہمارے حکمران القاعدہ اور بعض دیگر قوتوں کی موجودگی سے بھی انکاری رہے تاہم وقت نے ثابت کیا کہ اسامہ بن لادن سمیت لا تعداد دیگر کو پاکستان ہی میں نشانہ بنایا گیا ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم مزید سازشوں اور جنگوں کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے ، انہوں نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت اے این پی کو دیوار سے لگانے کا رویہ اب بھی جاری ہے ، انہوں نے عالمی دن کی مناسبت سے کہا کہ اگر بنگالیوں کو ان کے حقوق دیئے جاتے تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ جاتاکیونکہ بنگالیوں کی تحریک بنیادی طور پر بنگالی زبان کے ساتھ کی گئی زیادتی کا نتیجہ تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے اپنے رویئے تبدیل نہیں کئے اور آج بھی پشتو دیگر زبانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں پشتو اور دیگر زبانوں کو ان کے جائز حقوق دلوائے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے ایک سازش کے تحت ہمارے اقدامات کو سبوتاژ کیا اور پشتون دشمن رویہ اپنایا ، انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم مادری زبان کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور ہم اس حق کیلئے اپنی جدو جہد جاری رکھین گے ، انہوں نے قبائل کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے استحکام کیلئے قبائلی عوام اور ان کے حقیقی نمائندوں کے اس مطالبے کو تسلیم کیا جائے تا کہ پشتونوں کی تقسیم کی ایک لکیر مٹایا جائے اور قبائل کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا ازالہ بھی کیا جائے ، قبل ازیں باچا خان مرکز میں مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سکالرز نے مقالے پیش کئے شاعروں نے نظمیں سنائیں اور نامور گلوکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ، تقریب میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی ۔