مورخہ : 25.4.2016 بروز پیر

حکمرانوں کی نا اہلی کے باعث صوبے کو بد ترین انتظامی اور اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ حیدر خان ہوتی
وزراء اور ممبران اسمبلی نئے منصوبوں کی بجائے ہمارے دور کے ترقیاتی منصوبوں پر تختیاں لگانے میں مصروف ہیں۔
* حکومت نے والدین ، بچوں اور عوام کو تعلیمی اداروں کی حفاظت اور چوہے مار مہم پر لگا رکھا ہے۔
سال 2018 تحریک انصاف اور ان کے اتحادی ٹولے کے محاسبے کا سال ثابت ہو گا۔ پی کے 36 ٹوپی میں ورکرز کنونشن سے خطاب

پشاور ( پریس ریلیز) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ صوبے اور ملک کے سیاسی حالات تیزی کیساتھ بدل رہے ہیں۔ صوبہ پختونخوا میں عوامی سطح پر عوام کو ادراک ہو چکا ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی تبدیلی کا دعویٰ محض عوام سے ووٹ لینے کا ایک طریقہ تھا اور حکمرانوں نے صوبے کو عملاً بے یارومدد گار چھوڑ دیا ہے تاہم عوام 2018 کے الیکشن میں ان کا محاسبہ کر کے ان کو بنی گالہ تک محدود کر دیں گے۔
پی کے 36 ٹوپی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ صوبے کو حکمرانوں کی نا اہلی اور غیر ذمہ داری کے باعث بدترین انتظامی اور اقتصادی بدحالی کا سامنا ہے ۔ اُنہوں نے بجٹ لیپس کرنے کا ریکارڈ قائم کر کے صوبے کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے اورساڑھے تین سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کو حکومت کرنے کا طریقہ نہیں آیا۔
اُنہوں نے کہا کہ وزراء اور ممبران اسمبلی ہمارے دور کے ترقیاتی منصوبوں پر اپنی تختیاں لگانے میں مصروف ہیں کیونکہ ان کے پاس صوبے کی ترقی کیلئے سرے سے کوئی پلان ہے ہی نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس ان کی نا اہلی کے باعث صوبے کو اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے جبکہ صوبے میں بدترین قسم کی انتظامی اور سیاسی بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے صوبے کے عوام کو چوہے مارنے اور والدین ، اساتذہ کو سکولوں کی مسلح حفاظت جیسے کاموں پر لگا دیا ہے۔ اگر تبدیلی ایسے احمقانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویوں اور پالیسیوں کا نام ہے تو یہ افسوسناک بھی ہے اور شرمناک بھی۔ اُنہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام جان چکے ہیں کہ تبدیلی کے نام پر ان کے ساتھ مذاق اور دھوکہ کیا جا چکا ہے اور عمران خان، ان کی حکومت کو پشتونوں کے مسائل کے حل اور ان کی نمائندگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن پی ٹی آئی اور ان کے حکومتی اتحادیوں کے عوامی محاسبے کا سال ثابت ہو گا اور صوبے کے نوجوان اور عوام تبدیلی کے دعویداروں کو بنی گالہ تک محدود کر کے دم لیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں دہشتگردی کی بدترین لہر کے باوجود نہ صرف یہ کہ صوبے کے حقوق کے حصول کو آئینی طور پر یقینی بنایا بلکہ تعلیم کے فروغ اور اجتماعی ترقی کا ایسا ریکارڈ بھی قائم کیا جس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اُنہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹے نعروں کی بجائے اے این پی کے پلیٹ فارم سے اپنے عوام اور صوبے کے حقوق کے حصول ، امن کے قیام اور تعلیم کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ اور پر امن بنایا جا سکے۔