مورخہ 27مارچ 2016ء بروز اتوار
حکمرانوں کو صوبے کے مفادات اور حقوق سے کوئی سروکار نہیں ، سردار حسین بابک
صوبے کو تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیاہے اور عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں
اساتذہ اور طلباء کے ہاتھوں میں بندوق تھمانا شرمناک ہے ، تعلیمی ادارے موچوں میں تبدیل ہو چکے ہیں
حکمرانوں نے سیاست اور حکومت کو مذاق بنا دیا ہے اور ان کو صوبے کے مفادات اور حقوق سے کوئی سروکار نہیں
پختونوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے چائنہ پاک اکنامک کوریڈور اہم منصوبہ ہے، بونیر میں شمولیتی اجتماع سے خطاب
پشاور ( پ ر ) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تبدیلی کے نام پر صوبے کے عوام کو دھوکہ دیا ہے، حکمرانوں نے سیاست اور حکومت کو مذاق بنا دیا ہے اور ان کو صوبے کے مفادات اور حقوق سے کوئی سروکار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ صوبے کے حقوق کا تحفظ اے این پی کے بغیر کوئی دوسری قوت نہیں کر سکتی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بونیر میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر قومی وطن پارٹی سے مستعفی یار رحیم ، جبکہ فضل محمد سجاد علی ، عبدالوہاب ،سید رحیم ، غفور گل ،اور بختیار افسر نے مسلم لیگ ن اور جمشید امین اور رضا خان کو عوامی جمہوری اتحاد سے مستعفی ہو کر اپنے خاندانوں اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا ، سردار حسین بابک نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں کومبارکباد پیش کی اور انہیں سرخ ٹوپیاں پہنائیں، اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ جس ڈالر گیم کی بنیاد پر برسوں قبل افغانستان میں اسلام کے نام پر جنگ کا آغاز کیا گیا تھا اس نے پاکستان کی پشتون بیلٹ خصوصاً فاٹا اور سوات کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا تاہم اس تمام عرصہ کے دوران ہمارے اکابرین مخالفین کے الزامات اور رکاوٹوں کے باوجود یہی کہتے رہے کہ روس اور امریکہ کی جنگ میں فریق بننے سے گریز کیا جائے ورنہ یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی تاہم ہماری بات نہیں سنی گئی اور اس آگ نے پشتون بیلٹ میں لاتعداد لوگوں کی جانیں لیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی مخالفت اور امن ، عدم تشدد اور تعلیم کی وکالت کی پاداش میں ہمارے ایک ہزار سے زائد کارکنوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس کا صلہ ہمیں اس صورت میں دیا گیا کہ ہمیں ایک منصوبے کے تحت پارلیمانی نمائندگی سے محروم رکھا گیا اور صوبے کا اختیار ایسے لوگوں کو دیا گیا جو کہ ماضی میں انتہا پسندی کے حامی رہے ہیں اور اب بھی کھل کر دہشت گردی کی مذمت نہیں کر رہے ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں نسبتاً جو امن قائم تھا اس کا تمام کریڈٹ اے این پی کو جاتا ہے اور اس امن میں ہمارے سینکڑوں شہداء کا خون شامل ہے ،تاہم موجودہ صوبائی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کے باعث دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے ،چائنہ پاک اکنامک کوریڈور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پختونوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کیلئے چائنہ پاک اکنامک کوریڈور اہم منصوبہ ہے اور اس کے مغربی روٹ کی تعمیر پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق خوش آئند ہے، انہوں نے کہا کہ چین نے اس روٹ کو اس لئے اہمیت دی تا کہ انتہا پسندی سے متاثرہ اور پسماندہ رہ جانے والے علاقوں کو ترقیافتہ علاقوں کے برابر لا یا جا سکے، انہوں نے کہا کہ صوبے کی خوشحالی اور ترقی کیلئے ہم نے اپنی حکومت میں جو منصوبے مکمل کئے ملک کی 65سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی تاہم یہ بات قابل افسوس ہے کہ آج ایسے لوگوں کو اقتدار سونپا گیا ہے جن میں نہ تو حکومت چلانے کی صلاحیت ہے ا ور نہ ہی انہیں صوبے کے مفادات سے کوئی دلچسپی ہے موجودہ حکمرانوں نے صوبے کو تجربہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ عوام ووٹ دینے کے اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اور اے این پی اس خطے کی نمائندہ پارٹی کے طور پر پھر سے اپنی جگہ پا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ بہت سی قوتیں انتہا پسندی کے معاملے پر مصلحت ، خوف اور دباؤ کا شکار ہیں تاہم اے این پی تمام تر قربانیوں ، زیادتیوں اور دباؤ کے باوجود میدان میں ڈٹی ہوئی ہے اور ہماری تحریک ، جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس خطے اور صوبے کو امن اور ترقی کا گہوارا نہیں بنایا جاتا ، انہوں نے کہا کہ یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ موجودہ حکومت نے تعلیمی اداروں کو مورچوں میں تبدیل کر دیا ہے اور اساتذہ اور طلباء کو بندوقیں تھما دی گئی ہیں ،انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات نے امن سے متعلق دعوؤں کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو عوام عدم تحفظ کے باعث اپنی حفاظت کیلئے مزاحمت پر مجبور ہو جائیں گے ، انہوں نے کہا کہ اے این پی 2018ء کے الیکشن کیلئے بھرپور تیاری کر رہی ہے۔